• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

پچیس سال پہلے دی گئی طلاق کا حکم

استفتاء

میرے ابو کا کہنا ہے کہ آج سے 25 سال پہلے میں نے آپ کی امی کو طلاق دی تھی اور والدین کے دباؤ کی وجہ سے علیحدگی اختیار نہ کی تھی۔ وہ اس بات کا گواہ ٹھہراتا ہے اپنے امی اور ابو کو، مطلب میرے دادا اور دادی کو، اور وہ دونوں اس دنیا سے کوچ کر گے ہیں، ایک اور گواہ پیش کرتا اپنے بڑے بھائی کو جس نے مجھے حلفاً کہا ہے کہ اللہ کی قسم ! مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں ہے۔ میری امی بھی یہی کہتی ہے کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، اس نے مجھے طلاق نہیں دی تھی۔ مزید میرا ابو یہ بات کرتا ہے کہ میں نے چھ بچے حالت طلاق میں پیدا کیے ہیں اور وہ ہمیں ولدالزنا کہتا ہے ، استغفر اللہ ۔ اور مزید یہ کہتا کہ میں حالت طلاق میں اپنی بیوی سے پچھلے 25 سال سے رہ رہا ہوں ، جب کہ اس کے پاس اس بات ایک بھی گواہ نہیں ہے۔ شریعت اس کے بارے کیا کہتی ہے؟ میری امی کو طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ مزید ہمیں اس کے ساتھ رہنا ہو گا یا نہیں؟ جب کہ اس کا کہنا ہے کہ اپنی امی کو لے کے نکل جاؤ ۔ اس سلسلے میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

طلاق کے واقع ہونے کے لیے گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ہے، اسی طرح خود بیوی کا ان الفاظ کو سننا بھی شرط نہیں ہے۔ شوہر کے طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ البتہ آپ کے سوال میں کچھ باتیں وضاحت طلب ہیں، یہ باتیں آپ اپنے والد صاحب سے یہ پوچھ کر بتا دیجیے، ان کی روشنی میں جواب دیا جائے گا۔(1) طلاق کن الفاظ میں دی تھی ؟ طلاق کا لفظ بولا تھا یا کوئی اورا لفاظ استعمال کیے تھے؟ جو الفاظ بھی تھے وہ تحریر کر دیجیے۔(2) ایک یا دو طلاقیں دی تھیں یا تینوں طلاقیں دے دی تھیں؟(3) ایک یا دو طلاقوں کی صورت میں میاں بیوی اکٹھے ہی رہے یا الگ ہو گئے تھے؟ اگر علیحدگی ہو گئی تھی تو کتنا عرصہ دونوں جدا رہے؟واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved