• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نومولود کے دائیں کان میں اقامت اور بائیں کان میں اذان کہہ دی ہو تو کیا حکم ہے؟

استفتاء

بچی کی پیدائش پہ دائیں کان میں اقامت اور بائیں کان میں اذان دی گئی، اور اس بات کو ایک سال گزر گیا۔ اب بعد میں معلوم ہوا کہ یہ غلطی ہو گئی تھی، درست طریقہ یہ نہیں تھا، اب اس غلطی کی تلافی کیسے کی جائے؟۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نومولود(بچہ اور بچی) کے کان میں اذان دینے کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھی جائے۔ یہ عمل سنت ہے، فرض یا واجب نہیں ہے کہ اس کے ترک پر قضا کا حکم ہو یا خلافِ ترتیب ہونے پر گناہ لازم آئے۔ آپ نے جس ترتیب سے یہ عمل سرانجام دیا، یہ اگرچہ مسنون طریقہ کے خلاف ہوا، لیکن نفسِ سنت(بچے کے کان میں اذان دینے والی سنت ) ادا ہو گئی ، دوہرانا لازم نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved