- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آپ کی خدمت میں ایک سوال عرض ہے کہ کہا جاتا ہے کہ گھر میں جو سامان زائد ہو اس پر بھی قربانی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ”زائد“ سے کیا مراد ہے؟ اور کیا زائد سامان پر کوئی وقت گزرنے کی شرط ہے؟ مہربانی فرما کر وضاحت فرمائیں!
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
”زائد سامان“ سے مراد وہ سامان ہے جس کے بغیر انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں۔ اس تعریف کی رو سے کھانے پینے کا سامان، رہائشی مکان، استعمال کے کپڑے اور زیورات، گھریلو ضروری اشیاء (مثلاً سلائی اور دھلائی کی مشین، فریج، کھانا پکانے کے برتن وغیرہ)، تاجروں اور مزدور طبقہ کے آلاتِ صنعت و حرفت (مثلاً مشینری، فرنیچر وغیرہ) ضرورت کا سامان کہلائے گا، اور ایسا سامان، برتن اور کپڑے وغیرہ جو سال بھر میں ایک بار بھی استعمال نہ ہوتے ہوں وہ زائد از ضرورت سامان شمار ہوں گے۔[۲]: زائد از ضرورت سامان پر وقت گزرنے کی شرط نہیں بلکہ قربانی کے تین دنوں میں اگر اس قسم کا سامان انسان کی ملکیت میں پایا جائے تو اسے ”نصابِ قربانی“ میں شمار کیا جائے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved