- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سوال یہ ہے کہ کیا عورت نفاس کی حالت میں ناخن کاٹ سکتی ہے؟ سوال کی غرض یہ ہے کہ چالیس دن کی مدت بڑی ہے اور ان ایام میں بچہ کی دیکھ بھال میں بڑے ناخن مناسب معلوم نہیں ہوتے ، نہ ہی اس ننھے سے جسم کے لیے اور نہ ہی اس صفائی کی رو سے کہ دودھ پلانے کے علاوہ بھی ماں انگلیوں کا استعمال کرتی رہتی ہے، جیسے گھٹی وغیرہ دینے کے لیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(حیض، نفاس، جنابت) کی حالت میں ناخن اور غیر ضروری بال کاٹنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ پاکی کے ایام میں کاٹے جائیں۔ہاں اگر ناپاکی کے دوران میں چالیس روز پورے ہو چکے ہوں تو پھر غیر ضروری بال صاف کرنا اور ناخن کاٹنا ضروری ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“وُقِّتَ لَنَا فِيْ قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيْمِ الْأَظْفَارِ وَنَتْفِ الْإِبِطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لَّا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً”(صحیح مسلم: حدیث نمبر599)ترجمہ: مونچھ کاٹنے، ناخن تراشنے، بغل کے بال نوچنے اور شرم گاہ کے بال صاف کرنے میں ہمارے لیے (زیادہ سے زیادہ) مدت چالیس دن متعین کی گئی ہے، اور اس سے زیادہ دن باقی رکھنے سے منع کی گیا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved