• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نماز میں آمین آہستہ کہنے کے دلائل

استفتاء

ہم یہاں امریکہ میں رہتے ہیں۔ میرے بھائی، بہنوں اور ان کے خاندان کے لوگوں کے گھرکے ساتھ ہمارے ساتھ ساتھ ہیں۔ یعنی ہم سب قریب قریب رہتے ہیں۔ یہاں پر مسجدیں جمعہ کے لئے تو کھلتی ہیں لیکن عام نمازوں کے لئے بند ہیں۔ تو ہم نمازیں اپنے گھر پر پڑھتے ہیں۔ مغرب کی نماز تو ہم سارے مل کے گھر میں پڑھتے ہیں۔مغرب کی نماز میں جب امام جہراً قرأت کرتا ہے تو بچے (یعنی میرے بھتیجے ، بھانجے ، بھانجی ، بھتیجی وغیرہ) نماز میں سورت فاتحہ کے بعد اونچی آواز میں آمین کہتے ہیں۔ میں نے انہیں منع کیا کہ نماز میں اونچی آواز سے آمین نہ کہا کرو بلکہ آہستہ آواز میں کہا کرو۔ تو میرے ایک ہم زلف ہیں ،وہ بھی اھل السنۃ والجماعۃ سے ہی تعلق رکھتے ہیں، غیر مقلد نہیں ہیں تو وہ مجھے کہنے لگے: یار! یہ بچے ہیں، چلو اونچی آواز میں بھی آمین کہتے ہیں تو کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے کہا: نہیں! یہ اتنے بھی بچے نہیں ہیں، کم از کم دس بارہ سال ان کی عمر ہے، ابھی سے ان کو بتائیں گے تو ان کی تربیت ہو گی کہ ہم نے ایسے نہیں کرنا۔ تو وہ مجھے کہنے لگے کہ دوسرے ائمہ کے نزدیک تو یہ ٹھیک ہے، اس لیے بچوں کو اتنی سختی سے کہنے کی ضرورت نہیں۔آپ سے پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ اگر کسی کو یہ مسئلہ سمجھانا ہو یا آمین کے بارے میں کچھ کہنا ہو تو مجھے کوئی ایسی دلیل دیں یا کوئی احادیث ایسی بتا دیں کہ جو میں دوسرے بندے کو دوں تو وہ بندہ جواب نہ دے سکے۔ تو وہ احادیث سامنے آ جائیں کہ جن کے پیشِ نظر ہم آمین اونچی آواز سے نہیں کہتے۔ برائے مہربانی اس سوال کا جواب عنایت فرما دیں۔میرے پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں پر بہت سارے لوگ ہیں جو یہ دھوکا کھا جاتے ہیں کہ سعودی عرب والے آمین چونکہ اونچی آواز سے کہہ رہے ہوتے ہیں تو یہ لوگ بھی دیکھا دیکھی میں اونچی آواز سے شروع کر دیتے ہیں۔ لوگوں کو وہاں کے ائمہ کرام کے مسائل کا پتا نہیں ہوتا اس لیے ان کو دیکھیں تو یہ بھی یہی چیزیں شروع کر دیتے ہیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نماز میں آمین آہستہ کہنے کے دلائل چند دلائل یہ ہیں:
1: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّهٗ صَلّٰى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَرَأَ ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ﴾ قَالَ: اۤمِيْنَ، خَفَضَ بِهَا صَوْتَهٗ.
(مسند ابی داؤد الطیالسی: ج1ص577 رقم الحدیث 1117، مسند احمد: ج14 ص285 رقم الحدیث 18756، المعجم الکبیر للطبرانی: ج9 ص138رقم الحدیث 17472)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ﴾ پڑھا تو “آمین” آہستہ آواز سے کہا۔ 
2: عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذَاكَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ أَنَّهٗ حَفِظَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ- سَكْتَتَيْنِ؛ سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ﴾
(سنن ابی داؤد: رقم الحدیث 779)
ترجمہ: حضرت حسن (بصری) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب اور حضرت عمران بن حُصَین رضی اللہ عنہما نے ایک دوسرے سے گفتگو کی، تو حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتوں کو یاد رکھا ہے؛ ایک سکتہ جب آپ تکبیر کہتے، اور دوسرا سکتہ جب آپ ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ﴾ کی قراءت مکمل فرما لیتے۔
“سکتہ” کا مطلب ہے آواز کو پست کرنا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا سکتہ ثناء کے لیے اور دوسرا سکتہ آمین کے لیے ہوتا تھا ۔ وضاحت یہ ہے کہ ہمارے سابقہ عنوان “امام وَ لَا الضَّآلِّیْنَ کہے تو آمین کہنا” سے یہ امر ثابت ہے کہ ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ﴾ کے بعد آمین کہی جاتی ہے، اور موجودہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکتہ فرمایا یعنی آواز کو پست کیا۔ لہٰذا دونوں دلائل کو یکجا کرنے سے یہ حکم واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ﴾ کے بعد آمین آہستہ آواز میں ارشاد فرمائی ہے۔
3: عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا يَجْهَرَانِ بِـ “بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ” وَلَا بِالتَّعَوُّذِ وَلَا بِالتَّأْمِيْنِ”.
(شرح معانی الآثار للطحاوی: ج 1ص 150باب قراء ۃ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم فی الصلوٰۃ)
ترجمہ: حضرت ابو وائل (شَقِیق بن سلمہ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما؛ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، تعوذ اور آمین اونچی آواز میں نہیں کہتے تھے ۔ 
4: عَنْ أَبِيْ وَائِلٍ قَالَ:كَانَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا يَجْهَرَانِ بِـ “بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ” وَلَا بِالتَّعَوُّذِ وَلَا بِاۤمِيْنَ.
(المعجم الکبیر للطبرانی: ج4 ص 566، 567 رقم الحدیث 9201، المحلی بالآثار لابن حزم: ج2ص280 رقم المسئلۃ 363)
ترجمہ: حضرت ابو وائل (شَقیق بن سلمہ) رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما ؛ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، تعوّذ اور “آمین” بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔
5: عَنْ إِبْرَاهِيْمَ رَحِمَہُ اللهُ قَالَ: خَمْسٌ يُخْفَيْنَ: سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَالتَّعَوُّذُ، وَبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، وَ اۤمِيْنَ، وَاللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.
(مصنف عبد الرزاق: ج 2ص57 باب ما یخفی الامام رقم الحدیث 2599)
ترجمہ: حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں آہستہ آواز میں کہی جائیں :
سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، تعوذ، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، آمین اور اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
[۲]: جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ دوسرے ائمہ بھی آمین اونچی کہتے ہیں تو اس حوالے سے چند باتیں عرض ہیں:
 ہم اھل السنۃ والجماعۃ حنفی ہیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل کی بنیاد پر ترجیح آمین آہستہ کہنے کو دی ہے۔ تو ہمیں اپنے امام کے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ پر بھی اعتماد کر کے پابندی سے آہستہ آواز میں آمین کہنے پر عمل  کرنا چاہیے۔
 جس فقہ میں آمین اونچی کہتے ہیں مثلاً فقہ شافعی ہے تو خود فقہ شافعی کے محققین ائمہ یہ کہتے ہیں کہ انسان کو ایک متعین فقہ پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ ایک فقہ پر عمل کرتے ہوئے دوسری فقہ پر عمل نہ کیا جائے۔  فقہ شافعی کے معروف محقق امام علامہ  محی الدین ابو زکریا یحییٰ  بن شرف النووی (ت676ھ) لکھتے ہیں:
له مذهب ؛ فلا يجوز له مخالفته.
ترجمہ: اگر کوئی شخص کسی مذہب (فقہ)  پر عمل پیرا ہو تو اسے اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔
علامہ نووی رحمہ اللہ ایک سوال اٹھا کر اس کا جواب یوں لکھتے ہیں:
ان العامي هل يلزمه ان يتذهب بمذهب معين؟… يلزمه وبه قطع أبو الحسن الكياء. ( )
ترجمہ:  کیا عامی آدمی (جو مسائل اور اس کےدلائل سے نا آشنا ہو) کے لیے متعین مذہب (فقہ) پر عمل کرنا ضروری ہے؟ (تو اس کا جواب یہ ہے کہ) بالکل ضروری ہے۔ امام فقیہ ابولحسن الکیاء شافعی حتمی طور پر یہی بیان کرتے ہیں کہ ضروری ہے۔
اس سے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آمین اگر فقہ شافعی میں اونچی آواز سے کہی جاتی ہے تو وہی فقہ شافعی وضاحت کر رہی ہے کہ اپنی فقہ پر عمل پیرا رہیں، دوسری فقہ پر عمل نہ کریں! اس لیے ہمیں بھی یہ بات مان لینی چاہیے اور اپنی فقہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آمین آہستہ آواز میں کہنی چاہیے۔
 بچوں کی تعلیم وتربیت کرنا بڑوں کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے انہیں اپنی فقہ کے مسائل سکھانے اور ان پر عمل کروانے کی پابندی کروانا کوئی غلط بات تو نہیں۔ یہ بات قابلِ تعریف ہے خصوصاً جب دوسرے ائمہ بھی یہی تعلیم دے رہے ہوں کہ اپنی فقہ پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔
 عوام کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ سعودی عرب میں فقہ حنبلی رائج ہے۔ وہاں آمین کہنا فقہ حنبلی کی وجہ سے ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص حنبلی یا شافعی ہو تو اسے اپنی فقہ کی بنیاد پر آمین اونچی کہنی چاہیے اور اگر کوئی حنفی فقہ پر عمل پیرا ہے تو اسے دیکھا دیکھی کے بجائے اپنے امام؛ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہ پر عمل کرنا چاہیے اور آمین آہستہ آواز میں کہنی چاہیے۔ وجہ اس کی بیان ہو چکی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved