• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نماز کی کسی رکعت میں ایک سجدہ کیا اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دیا، نماز کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

اگر امام فرض نماز کی تیسری رکعت میں دو سجدوں کے بجائے ایک سجدہ کر کے چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا ہے اور باوجود مقتدیوں کے لقمے دینے کے لقمہ نہ لیا اور آخر میں سجدہ سہو کرکے لام پھیر دیا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟2: تیسری رکعت میں ایک سجدہ رہ جائے تو کیا چوتھی رکعت میں تین سجدے کرنے سے نمازہو جائے گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نماز کی ہر رکعت میں دونوں سجدے کرنا فرض اور رکن ہیں۔ اس امام صاحب پر لازم تھا کہ یہ چُھوٹا ہوا سجدہ نماز میں ادا کرتے ، پھر سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کرتے۔ اب چونکہ ترکِ رکن کے ساتھ نماز پڑھی ہے اس لیے وہ نماز ادا نہیں ہوئی، اس نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔[2]: اس صورت میں تاخیرِرکن کی وجہ سے سجدہ سہو بھی لازم ہو گا، سجدہ سہو کرنے کے بعد نماز ادا ہو جائے گی۔ اگر سجدہ سہو کے بغیر نماز پوری کر لی تو اس نماز کو وقت کے اندر دوبارہ پڑھنا واجب ہو گا، نماز کا وقت گزر جانے کے بعد اعادہ واجب نہیں، توبہ و استغفار کیا جائے گا۔واللہ اعلم بالصواب

© Copyright 2025, All Rights Reserved