• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نماز کا اعادہ واجب نہ ہونے کی صورت میں دوہرانے کا حکم

استفتاء

حضرت استاذ محترم ! میرا سوال یہ ہے کہ گزشتہ کل امام صاحب کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے اس لیے میں نے اپنے محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز پڑھائی، اور پہلی رکعت میں سورۃ یوسف کی چند آیات اور دوسری رکعت میں سورۃ هود کی کچھ آیات پڑھیں، تو اس طرح مجھ سے تلاوت کی ترتیب غلط ہو گئی۔ نماز کے بعد ایک شخص نے کہا کہ تلاوت کی ترتیب بگاڑ دی نماز مکروہ ہو گئی، مسجد میں شور شرابا ہو گیا ،میں نے اانتشار سے بچنے کی خاطر مائک میں اعلان کر دیا کہ تلاوت کی ترتیب غلط ہو گئی ہے جو افراد چاہتے ہے وہ نماز لوٹا لیں، اعلان سن کر پہلی صف کے افراد مزید شور شرابا کرنے لگے کہ نماز لوٹا دو، اس صورتِ حال میں؛ میں نے نماز دوبارہ پڑھا دی، کیا میرا یہ عمل صحیح ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نماز کا اعادہ آپ پر واجب نہیں تھا، اس لیے اس موقع پہ نمازیوں کے شور سے متأثر ہو کر نماز کو لوٹانے کے بجائے ان کو درست مسئلہ سمجھانا چاہیے تھا ۔ تاہم اب پہلی نماز فرض کے طور پر ادا ہو گئی اور دوسری نمازنفل بن گئی۔ آئندہ اس طرح کے کام سے احتیاط کریں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved