- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا احناف کے نزدیک امام کے علاوہ تین افراد موجود ہوں تو جمعہ درست ہو جاتا ہے؟ اگر بعض لوگ اعتراض کریں کہ جمعہ کے لیے زیادہ مجمع ضروری ہے اور کم افراد کے ساتھ جمعہ نہیں ہوتا بلکہ ظہر پڑھنی ہوگی، تو اس بارے میں صحیح حکم کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
فقہِ حنفی کے راجح اور مشہور قول کے مطابق نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے امام کے علاوہ کم از کم تین ایسے مردوں کا موجود ہونا شرط ہے جو امامت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ خواہ وہ مسافر ہوں، مریض ہوں یا عام حالات میں ہوں، بشرطیکہ وہ جمعہ کی امامت کے اہل ہوں۔یہ تین افراد خطبہ کے شروع سے موجود ہوں، کیونکہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور جماعت کا تحقق اسی سے وابستہ ہے۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ خطبہ میں شریک ہونے والے یہی تین افراد نماز کے وقت بھی بعینہٖ موجود رہیں، بلکہ اگر نماز کے آغاز میں تین مقتدی موجود ہوں تو جمعہ ادا ہو جائے گا۔البتہ اگر تکبیرِ تحریمہ کے بعد اور پہلی رکعت کے سجدہ سے پہلے مقتدی منتشر ہو جائیں اور تین سے کم رہ جائیں تو جمعہ فاسد ہو جائے گا اور ظہر ادا کرنی ہوگی۔ لیکن اگر پہلی رکعت کا سجدہ ہو چکا ہو تو اس کے بعد مقتدیوں کے چلے جانے سے جمعہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔بعض فقہاء نے ایک مقتدی کے قول کو بھی ذکر کیا ہے، مگر دلائل کے اعتبار سے امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کا تین مقتدیوں والا قول راجح اور مشہور ہے، اور متأخرین شارحین نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
1: ڈاکٹر وہبہ الزحیلی رحمہ اللہ (ت1436ھ)فرماتے ہیں:
الجماعۃ شرط … وأقل الجماعۃ عند أبی حنیفۃ ومحمد فی الأصح: ثلاثۃ رجال سوی الإمام … فإن ترکو الإمام أو نفروا بعد التحریمۃ قبل السجود، فسدت الجمعۃ، وصلیت الظہر…(الفقہ الإسلامی وأدلتہ : ج 1 ص 1295)ترجمہ: جماعت شرط ہے… اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک صحیح قول کے مطابق امام کے علاوہ کم از کم تین مردوں کا ہونا ضروری ہے… اگر وہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد اور سجدہ سے پہلے منتشر ہو جائیں تو جمعہ فاسد ہو جائے گا اور ظہر ادا کی جائے گی۔
2: الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
وقیل: ثلاثۃ سوی الإمام، قال فی مجمع الأنہر: لأنہا أقل الجمع … وہو مذہب أبی حنیفۃ ومحمد۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ؛ ج 27 ص 202)ترجمہ: کہا گیا ہے کہ امام کے علاوہ تین افراد ہوں، جیسا کہ مجمع الأنہر میں ہے کہ یہ کم از کم جمع ہے… اور یہی امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا مذہب ہے۔
3: علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
وأقلہا ثلاثۃ رجال … سوی الإمام، ہذا عند أبی حنیفۃ، ورجح الشارحون دلیلہ۔(رد المحتار لابن عابدین: ج 2 ص 151)
ترجمہ: جمعہ کے لیے کم از کم تین مرد (امام کے علاوہ) ضروری ہیں… یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے اور شارحین نے ان کی دلیل کو راجح قرار دیا ہے۔
لہٰذا اگر آپ نے امام کے علاوہ تین مقتدیوں کے ساتھ جمعہ ادا کیا ہے اور مذکورہ شرائط پوری تھیں تو جمعہ درست ہے، محض اس بنیاد پر کہ مجمع زیادہ نہ تھا، اسے باطل قرار دینا درست نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved