- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر نماز عید میں رکوع کرنےکو بھول گیا تو اس کے بارے میں کیا کرے؟ جبکہ عید کے دو دن بھی گزر گئے ہیں۔ اس کو تیسرے دن میں دوبار ہ پڑھے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نماز عید میں رکوع بھولنے والا شخص اگر امام ہے تو اس کی نماز ہوئی ہی نہیں۔ تو جن جن لوگوں نے اس امام کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے وہ نمازِ عید دوبارہ ادا کریں۔ کیونکہ عید الاضحیٰ کی نمازعذر کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ نماز فاسد ہو گئی ہے، تیسرے دن تک ادا کی جا سکتی ہے۔ اس لیے تیسرے دن نمازِ عید ادا کر لیں۔اگر رکوع بھولنے والا یہ شخص امام کے علاوہ کوئی مقتدی ہے تو اب اس کی ادائیگی نہیں کر سکتا۔ اب توبہ و استغفار کرے کیونکہ عید کی نماز جماعت سے پڑھی جاتی ہے، اکیلے نہیں۔علامہ فخر الدین عثمان بن علی زیلعی الحنفی (ت743ھ) لکھتے ہیں:( وَتُؤَخَّرُ بِعُذْرٍ إلٰى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ) أَيْ صَلَاةُ الْأَضْحٰى وَلَا تُؤَخَّرُ إلٰى أَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ ؛ ( )ترجمہ: نماز عید الاضحیٰ کو عذر کی وجہ سے تین دنوں تک مؤخر کیا جا سکتا ہے لیکن تین دنوں سے زائد مؤخر نہیں کیا جا سکتا ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved