- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نور بھی ہیں اور بشر بھی ، کیا یہ دونوں باتیں ماننا صحیح ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات اور جنس کے اعتبار سے بشر اور انسان ہیں اور صفت کے اعتبار سے مینارہ نور اور نورِ ہدایت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے کفر و شرک کے اندھیرے دور ہوئے۔ اس معنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور اور بشر کہنا درست ہے۔جن آیات اور احادیث میں انبیاء علیہم السلام کو ”بشر“ فرمایا گیا وہاں مراد ذاتِ نبوت ہے اور جہاں ”نور“ فرمایا گیا وہاں مراد صفتِ نبوت ہے۔1: ﴿قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ (٩٣)﴾سورۃ بنی اسرائیل: 93
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر ہوں جسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔2: ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾سورۃالکہف: 110
ترجمہ: آپ فرما دیجیے کہ میں تو تمہاری طرح ایک بشر ہوں، مجھ پر یہ وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔3: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ اَنْسٰى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيْتُ فَذَكِّرُوْنِيْ․صحیح البخاری: رقم الحدیث 401
ترجمہ: بے شک میں بشرہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔ اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو!4: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيْهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ اٰذَيْتُهٗ شَتَمْتُهٗ لَعَنْتُهٗ جَلَدْتُهٗ فَاجْعَلْهَا لَهٗ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهٗ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”صحیح مسلم: رقم الحدیث 2601
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں آپ سے عہد کرتا ہوں (امید ہے کہ) آپ اس عہد کے خلاف نہیں کریں گے۔ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو ایک بشر ہوں۔ جس مومن کو میں کوئی تکلیف دوں، برا بھلا کہوں، لعنت کروں یا سزا دوں تو اسے اس کے لیے رحمت اور پاکیزگی بنا دیجیے اور ایسی قربت کا ذریعہ بنا دیجیے جس کے باعث وہ قیامت کے دن آپ کا مقرب بن جائے۔5: ﴿قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ (١٥)﴾سورۃ المائدۃ: 15
ترجمہ: تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور واضح کتاب آ چکی ہے۔6: ﴿وَ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا (٤٦)﴾سورۃ الاحزاب: 46
ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے حکم سے اسی کی طرف بلانے والے اور روشن کرنے والے آفتاب ہیںواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved