• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مشترک جانور کے گوشت کی تقسیم وزن کےساتھ کی جائے یا اندازے سے بھی کر سکتے ہیں؟

استفتاء

کیا بڑے جانوروں کے حصے کی تقسیم میں وزن کر کے تقسیم کرنا ضروری ہے؟ اگر سبھی حصہ داروں کی اجازت ہو تو کیا تب بھی وزن کرنا ضروری ہے؟ اگر سبھی حصہ داروں کی اجازت کے بعد اندازے سے تقسیم کیا گیا تو کیا یہ جائز ہو گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جانور کے شرکاء کے لیے گوشت کو وزن کر کے آپس میں تقسیم کرنا ضروری ہے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے چاہے آپس میں کمی بیشی کو معاف بھی کر دیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گوشت کو برابر تقسیم کرنا یہ شریعت کا حق ہے جو شرکاء کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا۔ ہاں اگر وزن کئے بغیر تقسیم کرنا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے علاوہ دیگر چیزیں مثلاً سری، کلیجی وغیرہ کے ٹکڑے کر دیے جائیں اور گوشت کے ہر حصہ میں یہ ٹکڑے رکھ دیے جائیں تو اب وزن کیے بغیر محض اندازہ سے تقسیم کرنا بھی درست ہو گا۔اس لیے اگر محض گوشت تقسیم کیا اور اندازے سے کیا تو ناجائز کام کا ارتکاب کیا، اس لیے توبہ و استغفار اور آئندہ احتیاط لازم ہے، اور اگر تقسیم اندازے سے اس طرح کی کہ گوشت کے ساتھ دیگر چیزیں (سری، پائے وغیرہ) بھی حصوں میں رکھیں تو اب یہ تقسیم شرعاً درست ہو گئی ہے۔امام فخر الدین حسن بن منصور الاوزجندی المعروف قاضی خان (ت592ھ) لکھتے ہیں:
سبعة ضحوا بقرة و اقتسموا لحمها وزنا جاز لأن بيع اللحم باللحم وزنا مثلا بمثل جائز فكذلك القسمة فإن اقتسموا اللحم جزافا لا يجوز اعتبارا بالبيع و لو أنهم اقتسموا لحمها جزافا و حلل كل واحد منهم لأصحابه الفضل لا يجوز.(فتاویٰ قاضی خان: ج3 ص209)
ترجمہ: سات آدمی شریک ہو کر گائے ذبح کریں اور گوشت کو وزن کے اعتبار سے تقسیم کریں تو یہ جائز ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ گوشت کو گوشت کے بدلے وزن کر کے برابر بیچنا جائز ہوتا ہے اور یہ تقسیم بھی اسی طرح ہے۔ لیکن اگر یہ شرکاء گوشت کو اندازے کے ساتھ تقسیم کریں تو یہ جائز نہیں جس طرح گوشت کی خریدوفروخت گوشت کے بدلے میں اندازے سے جائز نہیں۔ اس لیے اگر ان شرکاء نے اندازے سے گوشت کو تقسیم کیا اور باہمی کمی پیشی کو معاف کر دیا تب بھی یہ تقسیم جائز نہ ہو گی۔امام برهان الدين محمود بن احمد بن الصدر الشہید النجاری مازه (ت616ھ)لکھتے ہیں:
سبعة ضحوا بقرة، وأرادوا أن يقسموا اللحم بينهم؛ إن اقتسموها، وزناً يجوز… وإن اقتسموها جزافاً إن جعلوا مع اللحم شيئاً من السقط نحو الرأس، والأكارع يجوز، وإن لم يجعلوا لا يجوز.(المحیط البرہانی: ج5 ص679)
ترجمہ: سات افراد نے گائے ذبح کی اور اس کا گوشت تقسیم کرنا چاہا تو اگر وزن کر کے تقسیم کیا تو یہ جائز ہے… اگر یہ شرکاء اندازے کے ساتھ گوشت تقسیم کریں اور گوشت کے ساتھ کچھ اور چیزیں مثلاً سری پائے وغیرہ بھی رکھ دیں تو اب اندازاً تقسیم کرنا بھی جائز ہے، اور اگر یہ چیزیں ساتھ نہ رکھیں تو اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved