• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مجتہد مصیب کو ملنے والے اجر پر دو حدیثوں میں تعارض کا حل

استفتاء

صحیح بخاری میں ہے کہ مجتہد کا اجتہاد اگر درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں، جب کہ امام حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے المستدرک میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ درست اجتہاد کرنے والے مجتہد کو دس اجر ملتے ہیں۔ بظاہر ان دونوں احادیث میں واضح تضاد ہے، اس کی کیا توجیہ کی جائے کہ یہ تعارض ختم ہو جائے۔ براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔نیز اگر ہو سکے تو یہ دونوں احادیث مبارکہ بھی حوالہ سمیت نقل کر دی جائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1) صحیح البخاری میں حضرت عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہ) ت:  43ھ(  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں:
“إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ “
(صحیح البخاری  للامام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ، ت:256ھ:حدیث نمبر: 7352)
ترجمہ:
 جب مجتہد نے اپنے اجتہاد سے کوئی فیصلہ کیا،اگر اجتہاد درست ہوا تو دوہرے اجر کا حق دار ہو گا اگر اجتہاد میں خطاہوئی تو ایک اجر ملے گا۔
(2) امام حاکم بن عبد اللہ نیشاپوری رحمہ اللہ  )ت:   405ھ (نے حضرت  عبداللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  ) ت:63  ھ(  سے ایک  روایت نقل کی  ہے، آپ رضی اللہ عنہ  فرماتےہیں:
“أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِعَمْرٍو اِقْضِ بَيْنَهُمَا فَقَالَ أَقْضِيْ بَيْنَهُمَا وَأَنْتَ حَاضِرٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ نَعَمْ عَلٰى إِنَّكَ إِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ عَشَرُ أُجُوْرٍ وَإِنِ اجْتَهَدْتَّ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ”
(المستدرک  علی الصحیحین للامام حاکم بن عبد اللہ نیشابوری رحمہ اللہ   :ج:5، ص: 119  ،حدیث نمبر: 7087 )
  ترجمہ  :
دو شخص اپنا جھگڑا  لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت  عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  (ت:43 ھ) سے فرمایا :” ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرو”   حضرت عمرو رضی اللہ عنہ  نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! بھلا میں آپ کی موجودگی میں فیصلہ کروں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (میری موجودگی میں) فیصلہ کرو،  اگر تم نے درست فیصلہ کیا تو تمہارے لیے دس اجر ہیں اگر تم نےاجتہاد کیا اور غلطی کی تو تمہارے لیے ایک اجر ہے ۔
دو جوابات  ذہن نشین فرما لیں، سوال میں جس تضاد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا ۔
جواب : 1
مجتہد کو اس کے اجتہاد پہ اجر اس کی محنت اور کوشش کے مطابق ملتا ہے، سرسری محنت پہ اجر کم اور عرق ریزی سے اجر زیادہ ہو جاتا ہے۔
جواب :2
مجتہد کی ذاتی صلاحیت کے اعتبار سے اجر میں تفاوت ہوتا ہے۔ مجتہد مطلق کے لیےاجر زیادہ باقیوں کے لیے  اجر کم ہوتا ہے۔
(تنقیحاتِ متکلم اسلام ، زیر طبع)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved