- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہماری مسجد کے مصالح اور منافع کے لیے ایک وقف شدہ پلاٹ ہے، اس پلاٹ کو ٹھیکے پہ دے کر ملنے والی اجرت مسجد کی ضروریات میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس وقف شدہ پلاٹ سے متصل ایک صاحب کا ذاتی پلاٹ ہے، اس صاحب نے مسجد کی انتظامیہ سے گزارش کی ہے کہ میرے پلاٹ تک آنے جانے کا راستہ بہت تنگ ہے، جس کی وجہ سے ہمیں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آپ ایسا کریں کہ مسجد کے پلاٹ میں سے مجھے سڑک تک کشادہ راستہ دے دیں، اس کے عِوَض میرے پلاٹ میں سے اتنی جگہ مسجد کے پلاٹ کے ساتھ ملا دیں۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ مسجد کی انتظامیہ کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان صاحب کی درخواست کو قبول کر کے پلاٹ میں ردّ وبدل کر لیں یا ان صاحب سے معذرت کر لیں؟۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مسجد کے پلاٹ کا دوسرے پلاٹ سے تبادلہ کیا جا سکتاہے۔ کیوں کہ جو تفصیل تحریری اور زبانی بتائی گئی ہے اس کے مطابق اتصال کی وجہ سے تبادلہ کی صورت میں مسجد کے منافع اور مصالح میں نقصان کا اندیشہ نہیں۔ تاہم جس جگہ وقف کے منافع اور مصالح میں نقصان کا اندیشہ ہو وہاں تبادلہ جائز نہیں۔
علامہ محمد امین بن عمر ابنِ عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالیٰ (ت: 1252ھ) لکھتے ہیں:
“مبادلة دار الوقف بدار أخرى إنما يجوز إذا كانتا في محلة واحدة أو محلة الأخرى خيرا وبالعكس لا يجوز”
ترجمہ:
“وقف کے گھر کا کسی دوسرے گھر کے ساتھ تبادلہ کرنا تب جائز ہے جب دونوں گھر ایک ہی محلہ میں ہوں، یا اگر دونوں الگ الگ محلہ میں ہوں تو دوسرا محلہ وقف شدہ گھر والے محلہ سے بہتر ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو تبادلہ جائز نہیں”۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved