- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک عورت کا شوہر روڈ حادثے میں فوت ہو گیا ، وہ عورت حاملہ تھی ، عدت میں اس کے یہاں لڑکے کی ولادت ہوئی ، مرحوم کی وفات کے وقت اس کے والدین بھی حیات تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے شوہر کے پاس اچھا خاصا مال تھا ، تو عورت کو میراث میں سے اس کا حصہ مل گیا، اور لڑکے کو بھی میراث مل گئی۔ اب باقی جو رقم بچ گئی تھی وہ کس کے حصہ میں ہوگی ؟
اس عورت نے دوسری شادی کرلی ، کیا یہ رقم اس کے دوسرے شوہر کو مل سکتی ہے؟اگر نہیں تو پھر یہ باقی رقم کس کے پاس جائے گی؟ یا پھر اس کا شوہر وہ رقم اپنے پاس رکھ کر لڑکے پر خرچ کرے ، کیا یہ صورت جائز ہے؟ نیز یہ بتا دیجیے کہ میراث کو تقسیم کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
میت کے ترکہ کو اپنی مرضی سے محض اندازے سے تقسیم کرنا یا بعض ورثہ کو دینا بعض کو محروم کر نا شرعاً ناجائز عمل ہے۔ ترکہ کی تقسیم کے لیے ضروری ہے کہ تمام حق داروں کو دیا جائے اور ہر ایک کو شریعت کی طرف سے مقرر شدہ حصہ کے مطابق دیا جائے۔ مرحوم کے ورثہ میں اس کے والدین بھی شامل ہوتےہیں، اس لیے انہیں حصہ دیے بغیرمرحوم کی بیوہ اور اس کے بیٹے کے درمیان جائیداد تقسیم کر دینا شرعاً جائز نہیں۔میت کی جائیداد کو تقسیم کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے ترکہ میں سے تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، پھر اس کے ذمہ اگر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے، اگر میت نے کسی جائز کام کی وصیت کی ہو تو قرض کی ادائیگی کے بعد ایک تہائی مال میں اسے پورا کیا جائے، اب آخر میں جو مال بچ جائے اسے شرعی ورثہ میں مقرر شدہ حصوں کے لحاظ سے تقسیم کر دیا جائے۔ سوال مذکور میت کے شرعی ورثہ (والد، والدہ، بیوہ، بیٹا) کے درمیان میراث حسبِ ذیل طریقے کے مطابق تقسیم ہو گی۔کل مال کے چوبیس حصے کر کے آٹھواں حصہ بیوہ کو، چھٹا حصہ والد کو، چھٹا حصہ والدہ کو دیا جائے اور باقی سارے مال کا حق دار بیٹا ہو گا ۔ مثلاً کل جائیدادکی مالیت چوبیس ہزار روپے ہے، اس میں سے تین ہزار بیوہ کو، چار ہزار والد کواور چار ہزار والدہ کو دیے جائیں اور باقی تیرہ ہزار بیٹے کو ملیں گے۔ بچے کے ناسمجھ ہونے کی صورت میں اس کا سرپرست اس کا حصہ اپنے قبضہ میں رکھے، اور اسے بچے کی ضروریات میں خرچ کرے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved