• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مچھلی ذبح کیے بغیر حلال کیوں ہے؟

استفتاء

ایک عیسائی عورت یہ اعتراض کر رہی تھی کہ جب آپ کا یہ ماننا ہے کہ ذبح کے بغیر گوشت حلال نہیں ہوتا تو پھر آپ لوگ مچھلی کو بنا ذبح کیے اوراس پر اللہ کا نام لیے بغیر کیوں کھاتے ہیں؟ براہِ کرم اس کا تسلی بخش جواب مع حوالہ عنایت فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہر مسلمان اپنے ہر عمل میں شریعت کے احکامات کا پابند ہے۔ کسی کام کے جائز و نا جائز ہونے میں اور کسی چیز کے حلال و حرام ہونے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کافی ہے۔ جو عیسائی خاتون یہ اعتراض کرتی ہے اس کا بنیادی جواب اس قدر کافی ہے کہ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں ، ہماری شریعت میں مچھلی کو ذبح کرنے کا حکم نہیں اس لیے ہم ذبح کیے بغیر استعمال کرتے ہیں۔ اگر مچھلی کو بھی ذبح کرنے کا حکم ہوتا تو اسے بھی ہم ذبح کر تے۔ تاہم آپ کے قلبی اطمینان کے لیے دلیل ذکر کر دیتے ہیں۔(1) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل فرماتے ہیں:
أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ : فَالْجَرَادُ وَالْحُوْتُ ، وَأَمَّا الدَّمَانِ : فَالطِّحَالُ وَالْكَبِدُ »(السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر:242)ترجمہ: ہمارے لیے دو چیزیں ذبح کے بغیر ( مری ہوئی) اور دو خون حلال ہیں۔ ذبح کے بغیر والی دو چیزیں تو مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تِلی ہیں ۔(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ”(السنن النسائی، حدیث نمبر: 331)ترجمہ: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سمندر میں( کشتی کے ذریعہ) سفر کرتے ہیں اور (میٹھا) پانی اپنے ساتھ تھوڑا سا لے جاتے ہیں اس لیے اگر ہم اس پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں ! تو کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا وہ پانی پاک کرنے والا ہے ، اس کا مردار حلال ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved