- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مجھے لعان کا معنی اور اس کا شرعی طریقہ کار معلوم کرنا ہے؟ اس کے بارے میری راہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
“لعان” کا مطلب ہے” اپنی بیوی پر تہمت لگانا “یعنی کسی کی بیوی کا بچہ پیدا ہو اور خاوند یہ کہے کہ “یہ بچہ” میرا نہیں۔لعان کا شرعی حکم یہ ہے کہ وہ عورت حاکم وقت اور قاضی کے پاس جا کر ساری تفصیل بیان کرے ، حاکم وقت میاں بیوی دونوں کے بیانات سننے کے بعد باری باری دونوں سے قسم لے۔ قسم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے شوہر اس طرح کہے: “میں اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاضر جان کر گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جو تہمت میں نے اس پر لگائی ہے میں اس میں بالکل سچا ہو ں” یہ الفاظ چار مرتبہ دہرائے پھر پانچویں مرتبہ کہے، ” اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالی کی مجھ پر لعنت ہو”۔ اس کے بعد عورت چار مرتبہ یہ الفاظ دہرائے، ” اس نے مجھ پر جو تہمت لگائی ہے وہ اس میں جھوٹا ہے” ، پھر پانچویں دفعہ یوں کہے :”اگر یہ اس تہمت میں سچا ہوا تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو” ۔ اس طرح دونوں کی قسمیں مکمل ہو جائیں گی۔اب حاکمِ وقت یا قاضی صاحب دونوں میں جدائی کا فیصلہ نافذ کردے۔ اس فیصلے سے ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور بچہ ماں کے حوالے کر دیا جائے گا ، باپ کی طرف منسوب نہیں ہوگا۔ اس معاملے کو شریعت کی اصطلاح میں ” لعان” کہتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved