• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

لڑکی نسب اور تعلیم میں لڑکے کے جوڑ کی نہیں، اب کیا کریں؟

استفتاء

ایک لڑکے کی شادی ہوئی۔ لڑکی کے اولیاء نے جھوٹ کا سہارا لے کر نکا ح کروایا تھا اور کہا تھا کہ لڑکی ہر اعتبار سے لڑکے کے جوڑ کی ہے، مگر شادی کے بعد معلوم ہوا کہ لڑکی نسب اور تعلیم میں لڑکے کے مقابل کچھ بھی نہیں ہے۔ تو اب لڑکےاور ان کے اولیاء شرعی اعتبار سے کیا راستہ اختیار کریں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس صورت میں جب لڑکی عقدِ نکاح کے ذریعے اس کی عزت بن چکی ہے تو اب بہتر یہی ہے کہ اسے عزت کے ساتھ نکاح ہی میں رکھا جائے۔ تعلیم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اسے اب شادی کے بعد بھی پڑھنا لکھنا سکھایا جا سکتا ہے۔نسب یا خاندان میں برابری نکاح میں مستحسن ہے، لازمی چیز نہیں ہے ۔ لہٰذا برابری نہ ہونے کی صورت میں اس بنیاد پر رشتہ ہی ختم کر دینا دانش مندی نہیں ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے معیارِ فضیلت تقویٰ کو قرار دیا ہے، یہ خاندان اور قبیلے تو محض تعارف اور پہچان کا ذریعہ ہیں۔تاہم اگر نِبھا ؤ کی کوئی صورت ممکن نظر نہ آتی ہو تو لڑکے کےخاندان کے چند دین دار سمجھ دار افراد مل بیٹھ کے تمام حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے جو بہتر سمجھیں فیصلہ کر لیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved