- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ يہاں ایک بندے کے پاس دو ہزار ریال نقد موجود ہیں۔اور اس لاک ڈاون کی وجہ سے ان کی آمدنی بند ہوئی ہے۔ اور ان کے پاکستان میں بیوی اور 7 بچے ہیں۔ 5 بچے پڑھتے ہیں۔ 2 مدرسے میں پڑھتے ہیں اور 3 سکول پڑھتے ہیں۔ان کی فیس بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔ اور ہر مہینے گھر کیلئے بھی کچھ خرچہ بھیجنا ہوتا ہے۔اور 2500 ریال کسی کو قرضہ بھی ديا ہوا ہے۔اور ان کی پاکستان میں ایک زمین تھی ۔وہ بیچ دی گیارہ لاکھ میں۔ گیارہ لاکھ میں ان کو صرف 6 لاکھ رقم ملی۔4 لاکھ کے حساب سے ان کو یہاں پر 8800 ریال دیے۔ اور پیسہ ملنے کے بعد وہ اپنے لئے یا کوئی کاروبار کا بندو بست کرے گا۔ پاکستان میں کوئی گھر خریدے گا۔یا کوئی زمین خریدے گا جس میں وہ اپنے لئے گھر بنا سکے ۔کیوں کہ ان کی ابھی تک نہ تو کوئی ذاتی زمين ہے نہ کوئی گھر۔ کیا یہ شخص زکوة، صدقہ،خیرات کا پیسہ لے سکتا ہے یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ شخص صدقات واجبہ( زکوۃ عشر صدقۃ الفطر وغیرہ )لینے کا حقدار نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved