- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ وظیفہ کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کا قرآن وحدیث سے ثابت ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور جو وظیفہ عامل اپنی طرف سے بتاتے ہیں وہ کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ نیز ہمارے اکابر یا اولیاء اللہ اپنے تجربہ سے ایسا وظیفہ بتائیں جو قرآن وحدیث میں موجود نہ ہو تو اس کا کرنا کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں منقول الفاظ اور ان کے علاوہ بھی بعض صحیح المعنی کلمات وجملے ایسے ہیں جو رشد وہدایت کے علاوہ اپنے اندر ایک خاص تاثیر رکھتے ہیں۔ انہیں بیماریوں سے بچاؤ، مصائب سے چھٹکارا اور فوائد کے حصول کی نیت سے پڑھنے سے مطلوبہ چیزیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ ”وظیفہ“ کی حقیقت بھی یہی ہے کہ منقول اور دیگر صحیح المعنی کلمات کو فوائد کے حصول اور ضرر سے بچاؤ کے لئے پڑھا جائے۔ اوراد و وظائف پڑھنے میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ ان کلمات کو محض سبب سمجھا جائے، مؤثر حقیقی ذات باری تعالیٰ ہی کو جانا جائے۔
اوراد ووظائف کا قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں ہونا ضروری نہیں بلکہ اکابرینِ امت نے اپنے تجربات و مشاہدات سے جن کلمات میں تاثیر کا ذکر کیا ہے انہیں بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ یہ کلمات صحیح المعنی ہوں۔ البتہ گر وظائف کے الفاظ قرآن مجید یا احادیث بارکہ میں موجود ہوں تو دیگر وظائف سے بلا شبہ افضل ہوں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved