- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا ولیمہ کے لیے رخصتی کے بعد میاں بیوی کا تنہائی اختیار کرنا یعنی صحبت کرنا ضروری ہے؟ اگر صرف رخصتی ہوئی ہو اور تنہائی نہ اختیار کی ہو تو کیا ولیمہ ہو جائے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ولیمہ کی ادائیگی کے لیے صحبت کرنا شرط نہیں ہے، اس لیے ولیمہ کے درست ہونے کے لیے صحبت کو ضروری سمجھنا غلط ہے۔ ولیمہ کی مسنون اور افضل صورت یہ ہے کہ رخصتی اور شب زفاف کے بعد کیا جائے، تاہم اگر صرف نکاح کے بعد یا رخصتی کے بعد ولیمہ کر لیا گیا تو نفس سنت ادا ہو جائے گی۔
محدّث کبیر حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوری رحمہ اللہ(ت: 1927ء) تحریر فرماتے ہیں:
“یجوز أن یؤلم بعد النکاح، أو بعد الرخصة، أو بعد أن یبني بها، والثالث هو الأولی”.(بذل المجهود، ج 4 ص 345 ، کتاب الاطعمۃ، باب فی استحباب الولیمۃ للنکاح، سهارن پور قدیم)ترجمہ: صرف نکاح کے بعد ولیمہ کیا جائے، یا رخصتی کے بعد کیا جائے ، یا ہمبستری کے بعد کیا جائے، یہ تینوں صورتیں جائز ہیں، البتہ سب سے بہتر اور افضل تیسری صورت ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved