- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دریافت یہ کرنا ہے کہ استخارہ کیوں کیا جاتا ہے؟ اور ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ استخارہ کرنے کے بعد سونا ضروری ہوتا ہے، کیوں کہ خواب میں اس مسئلے کا حل دکھائی دیتا ہے، کیا بات درست ہے؟ نیز استخارہ کا صحیح طریقہ کیا ہے، اور استخارہ کے لیے کون سی دعا پڑھی جاتی ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرما دیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کسی مسئلے میں بات ایک طرف نہ لگ رہی ہو،رائے میں استحکام نہ آرہا ہو،نفع نقصان واضح نہ ہورہا ہوتو دوشقوں میں سے ایک کی تعیین میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کے لیے استخارہ کرنا مسنون ہے۔ استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ دورکعت نفل یکسوئی کے وقت مثلاً سوتے وقت پڑھے جائیں اور اس کے بعد مسنون دعائے استخارہ عاجزی کے ساتھ پڑھ لی جائے۔ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ خیر کی جانب قلب کو مطمئن کر دیتے ہیں۔ دعائے استخارہ یہ ہے:اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ․اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِہ وَ اٰجِلِہ، فَاقْدِرْہُ لِیْ، وَ یَسِّرْہُ لِیْ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ ․وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِہ وَ اٰجِلِہ، فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہ․(بخاری،کتاب الدعوات، باب الدعاء عند الاستخارۃ)
دعاکرتے وقت جب ”ہٰذَاالْاَمْرَ “پر پہنچیں (جس کے نیچے لکیر لگی ہوئی ہے) تو اگر عربی جانتے ہیں تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کریں یعنی ” ہٰذَاالْاَمْرَ “کی جگہ اپنے کام کا نام لیں، مثلاً ”ہٰذَاالسَّفَرَ “یا ”ہٰذَاالنِّکَاحَ “ یا ”ہٰذِہِ التِّجَارَةَ “یا ”ہٰذَاالْبَیْعَ“کہیں، اور اگر عربی نہیں جانتے تو ”ہٰذَا الْأَمْرَ “ہی کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچیں جس کے لیے استخارہ کررہے ہیں۔استخارہ کی دعا کا مفہوم:اے اللہ ! میں آپ کے علم کا واسطہ دے کر آپ سے خیراور بھلائی طلب کرتا ہوں اور آپ کی قدرت کا واسطہ دے کر میں اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں اور آپ سے آپ کا بڑا فضل مانگتا ہوں۔ آپ قدرت رکھتے ہیں اور مجھ میں قوت نہیں، آپ علم رکھتے ہیں میں علم نہیں رکھتا اور آپ غیب جاننے والے ہیں۔یا اللہ ! اگر آپ کے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائیں جس کے لیے استخارہ کررہے ہیں) میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لیے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے اور انجام کار کے اعتبار سے بھی بہتر ہے اور میرے فوری نفع کے اعتبار سے اور دیرپا فائدے کے اعتبار سے بھی بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرمادیجیے اور اس کو میرے لیے آسان فرمادیجیے اور اس میں میرے لیے برکت پیدا فرمادیجیے۔اور اگر آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائیں جس کے لیے استخارہ کررہے ہیں) میرے حق میں برا ہے، میرے دین کے حق میں برا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں برا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے برا ہے، فوری نفع اور دیرپا نفع کے اعتبار سے بھی بہتر نہیں ہے تو اس کام کو مجھ سے پھیر دیجیے اور مجھے اس سے پھیر دیجیے اور میرے لیے خیر مقدر فرمادیجیے جہاں بھی ہو، (یعنی اگر یہ معاملہ میرے لیے بہتر نہیں ہے تو اس کو چھوڑ دیجیے اور اس کے بدلے جو کام میرے لیے بہتر ہو اس کو مقدر فرمادیجیے) پھر مجھے اس پر راضی اور مطمئن بھی کردیجیے۔فائدہ:عوام میں یہ بات جو مشہور ہے کہ استخارہ کرنے کے بعد سونا ضروری ہے کیوں کہ خواب میں اس معاملہ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے، شرعی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ استخارہ سے اصل مقصد اللہ تعالیٰ سے خیر اور مشورہ طلب کرنا ہے۔ جو معاملہ بہتر ہو اللہ تعالیٰ استخارہ کی برکت سے اس پر دل کو مطمئن کر دیتے ہیں۔ خواب کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اگر اتفاق سے خواب میں اس کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اشارہ مل جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved