- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص فوت ہوا، ورثہ میں ایک بیوہ، پانچ بیٹے اور سات بیٹیاں موجود ہیں۔ مرحوم نے ترکہ میں بہت ساری جائیداد منقولہ و غیر منقولہ چھوڑی۔ اب مرحوم کا یہ ترکہ اس کے ورثہ میں کتنے حصوں میں تقسیم ہو گا۔ نیز مرحوم نے محض قانونی الجھنوں سے بچنے کے لیے اپنی زندگی میں کچھ زمین اپنےبیٹوں کے نام کرا دی تھی، کیا اس زمین میں بھی دیگر ورثہ حق دار ہوں گےیا اس کے مالک صرف بیٹے ہوں گے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مرحوم کی وفات کے وقت جو مال اس کی ملکیت میں تھا اس میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کا خرچ نکالا جائے، اس کے بعد میت کے ذمہ اگر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے، قرض کی ادائیگی کے بعد اگر مرحوم نے کسی جائز کام کی وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال سے اس وصیت کو پورا کیا جائے، اس کے بعد جو ترکہ باقی بچ جائے وہ ورثہ میں تقسیم ہو گا، بیوہ کو آٹھواں حصہ ملے گا، ہر بیٹا دوہرا اور ہر بیٹی اکہرے حصہ کی حق دار ہو گی۔ اس لحاظ سےکل مال کے ایک سو چھتیس(136) حصے بنیں گے، بیوہ کوسترہ(17)، ہر بیٹے کو چودہ(14) اور ہر بیٹی کو سات(07) حصے ملیں گے۔ پانچ بیٹوں کے کل حصے ستر(70) اور سات بیٹیوں کے کل حصے انچاس(49) ہوں گے۔
نوٹ: اگر محض قانونی الجھنوں سے تحفّظ مرحوم کے پیشِ نظر تھا، اس زمین کا بیٹوں کا مالک بنانا مقصود نہ تھا تو اس صورت میں بیٹوں کے نام رجسٹرڈ شدہ زمین بھی کُل ترکہ میں شامل ہو کر تمام ورثہ میں بقدرِ حصہ تقسیم ہو گی۔اگر مرحوم نے بیٹوں کے نام کرا کے ان کے قبضے میں دے کر ان کو مالک بنا دیا تھا تو اب یہ زمین بیٹوں کی ملکیت شمار ہو گی، باقی ورثہ اس کے حق دار نہ ہوں گے۔مثال کے طور پر مرحوم کے کل ترکہ کی مالیت پانچ لاکھ ہو تو اس کی تقسیم یوں ہو گی۔ورثہ حصے مالبیوہ 136/17 62,500.0بیٹے((5 136/70 257,352.9بیٹیاں(7) 136/49 180,147.1وارث حصے مالبیوہ کا حصہ 136/17 62,500.0ہر بیٹے کا حصہ 136/14 51,470.6ہر بیٹی کا حصہ 136/7 25,735.3واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved