• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا اس پر امت کا اجماع ہے کہ امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہونے سے رکعت مل جاتی ہے؟

استفتاء

کیا اس پر امت کا اجماع ہے کہ امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہونے سے رکعت مل جاتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جی ہاں! اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ رکوع میں مل جائے تو اسے وہ رکعت مل جاتی ہے۔
امام ابو بكر محمد بن ابراہیم بن المنذر النیسابوری رحمہ اللہ  (ت319ھ) لکھتے ہیں:
أَجْمَعَ الْخَلْقُ أَنَّ كُلَّ مَنْ أَدْرَكَ الْإِمَامَ رَاكِعًا فَرَكَعَ مَعَهُ أَدْرَكَ تِلْكَ الرَّكْعَةَ وَقِرَاءَتَهَا.
(الاوسط فی السنن والاجماع والاختلاف: ج3 ص114)
ترجمہ:تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے امام کو رکوع کی حالت میں پایا اور اس کے ساتھ رکوع میں ملا تو اسے وہ رکعت اور اس کی قرأت مل جاتی ہے۔
امام ابو الحسن علی بن محمد بن ابن القطان الحمیری الفاسی رحمہ اللہ  (ت628ھ) لکھتے ہیں:
وأجمعوا أن إدراك الركعة بإدراك الركوع مع الإمام.
(الاِقناع فی مسائل الاجماع: ص 152)
ترجمہ:ائمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام کے ساتھ رکوع میں ملنے سے رکعت مل جاتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved