- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک بات سنی جاتی ہے کہ القرض مقراض المحبۃ ، کیا یہ حدیث ہے یاکسی امتی کا قول ؟ وضاحت فرما کر مشکور فرمائیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قاضی عبد رب النبی بن عبد رب الرسول احمد نگری نے اپنی کتاب “دستور العلماء اَو جامع العلوم فی اصطلاحات الفنون” کے صفحہ 48 پر لکھا ہے کہ “القرض مقراض المحبۃ” قدوة العارفين عارف نامی نور الدين شيخ عبد الرحمن الجامی قدس سره کا فرمان ہے۔ہماری تحقیق کے مطابق ذخیرۂ احادیث میں یہ کہیں موجود نہیں ہے، لہٰذا اسے حدیث نہ سمجھا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved