• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

امام قرأت شروع کر دے تو ثناء پڑھنی چاہیے یا نہیں؟

استفتاء

دریافت یہ کرنا ہے کہ جماعت کی نماز میں امام قرأت شروع کر دے تو مقتدی ثناء پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1) جہری نمازوں(جن میں بلند آواز سے قرأت کی جاتی ہے)میں ثناء پڑھنے کے دوران امام قرأت شروع کر دے تو مقتدی پر لازم ہے کہ  ثناء پڑھنا ختم کر دے اور امام کی قرأت کو غور سے سنے،  جتنی ثناء پڑھ لی ہوبس اتنی کافی ہے۔ 
(2) اگر امام کی قرأت کے دوران کوئی  آدمی نماز میں شامل ہوتو وہ بھی ثناء  نہ پڑھے  بلکہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ناف کے نیچے ہاتھ باندھ لے اور امام کی قرأت کو غور سے سنے۔ 
(3) اگر سِرّی نمازوں (جن میں آہستہ آواز سے قرأت کی جاتی ہے) میں ایسی صورتِ حال پیش آئے تو ثناء پڑھ لی جائے۔ 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved