- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
خلع کے حوالے سے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
(1) عورت اپنے شوہر سے خلع لینا چاہے تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟(2) کیا شوہر بھی اپنی بیوی سے کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے خلع لے لو؟(3) اگر شوہر اپنی رضامندی سے خلع کرنے پر آمادہ نہ ہو، اسے خلع قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، اس مجبوری میں وہ خلع قبول کرے تو کیا اس سے خلع ہو جائے گا؟(4) خلع کے ذریعے سے ہونے والی تفریق طلاق شمار ہو گی یا نہیں؟(5) اگر انڈین عدالت دخل اندازی کر کےتفریق کرا دےتو یہ تفریق معتبر ہو گی یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جوابات بالترتیب حسبِ ذیل ہیں:
(1) خلع اصل میں بالعوض طلاق کا نام ہے، اس میں عموماً خاتون کی طرف سے مطالبہ پایا جاتا ہے ۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ جب میاں بیوی میں نبھاہ ہونا بہت مشکل ہو اور خاوند از خود طلاق نہ دے یا مفت میں نہ دینا چاہ رہا ہو تو ایسی صورتِ حال میں بیوی اپنے خاوند سے یہ کہے کہ آپ اتنا مال لے لیں یا حق مہر کی جو رقم آپ کے ذمہ واجب الاداء ہے اس کے بدلے مجھ سے خلع کر لیں، اور شوہر اس مال کے بدلے خلع کرنے پر آمادہ ہو جائے تو خلع واقع ہو جاتا ہے۔
(2) جی ہاں! شوہر بھی اپنی بیوی کو خلع کی پیشکش کر سکتا ہے، شوہر کی طرف سے اختیار ملنے پر بیوی قبول کر لے تو خلع واقع ہو گا ورنہ نہیں۔
(3) آپ نے واضح نہیں کیا کہ کس مجبوری کے تحت خلع قبول کیا گیا؟ مجبوری سے مراد اگر یہ ہو کہ اہلِ خانہ یا کسی کےغصے یا ناراضی کی وجہ سےذہنی دباؤ کا شکار ہوکر؛ ناچاہتے ہوئے بھی طلاق یا خلع واقع کر دی تو اس سے طلاق اور خلع واقع ہو جاتے ہیں۔
اگر مجبوری سے مراد یہ ہے کہ کسی نے جان سے مارنے یا کوئی عضو قطع کرنے کی دھمکی دے کر طلاق یا خلع دینے پر جبر کیا ہو تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس دباؤ اور خوف کے زیرِ اثر خلع یا طلاق زبانی دی ہو تو واقع ہو جائیں گی، اگر زبان سے الفاظ ادا کیے بغیر تحریر لکھ دی ہو یا محض دستخط کیے ہوں تو اس سے طلاق یا خلع واقع نہیں ہوں گے۔
(4) لفظ خلع کے ساتھ علیحدگی اختیار کی جائے تو اس سے ایک بائن طلاق واقع ہوتی ہے، اس صورت میں نکاح ٹوٹ جاتا ہے، شوہر کے پاس رجوع کرنے یا خلع واپس لینے کا حق باقی نہیں رہتا، ہاں البتہ دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ اگر خلع میں خلع کا لفظ استعمال کرنے کےبجائے طلاق کا لفظ استعمال کیا ہو تو جتنی بار طلاق کا لفظ بولا جائے گا اتنی طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
(5) انڈین عدالت کا فیصلہ معتبر ہے یا نہیں؟ اس کی تفصیلات سے وہاں کے مفتیان کرام بہتر طریقے سے آگاہ کر سکتے ہیں، آپ ان سے رجوع کریں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved