• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

خاوند کی اجازت کے بغیر بیٹے کا مالی تعاون کرنے کا حکم

استفتاء

عرض یہ ہے کہ میری ایک عزیزہ کو ایک مسئلہ پیش آیا ہے اور وہ اس بارے بہت پریشان ہیں۔ آپ مسئلہ کا جواب عنایت فرما کر ان کی مدد فرما دیجیے۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا ًمسئلہ یہ ہے:”میرے بیٹے اور اس کے باپ کی لڑائی ہوئی ہے ٹچ موبائل کی وجہ سے۔ پہلے ہم اکٹھے رہتے تھے اب اسی لڑائی کی وجہ سے الگ ہو گئے ہیں۔ اب اس کے والد نے کسی بھی طرح کی سر پرستی سے انکار کردیا ہے۔ وہ اب بیٹے کی کسی طرح سے بھی مدد نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو صرف پانچ مرلے کا مکان دوں گا جو بہو کہ حق مہر میں اسے دیا تھا یا پھر اس کے پیسے دوں گا وہ بھی سال کے بعد اور وہ بھی ادھار دوں گا جو کہ بیٹے کو واپس ادا کرنا ہو گا۔اب بہو اور بیٹا اسی لڑائی کی وجہ سے دونوں بہو کے میکے چلے گئے ہیں۔ اس کے میکے والے ان سے ان کا خرچہ اور اخراجات مانگ رہے ہیں لیکن اس کا والد انکار کر رہا ہے۔ اس لڑکے کے پاس کسی قسم کا کاروبار بھی نہیں ہے اور وہ لڑکا بہت پریشان بھی ہے۔ان کی والدہ اپنے شوہر سے پوچھے بغیر اپنی جیب خرچ سے ان بہو بیٹے کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن اس کے والد نے ان کی والدہ کو واضح منع کر دیا ہے کہ آپ اپنے بیٹے پر کسی طرح کا کوئی خرچ نہیں کر سکتیں۔ اب اس والدہ کو کیا کرنا چاہیے ؟ کیا بغیر پوچھے اپنے بیٹے کی مدد کریں یا نہیں ؟ برائے مہربانی اس والدہ کی مدد کر دیں!“

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ان خاتون کو چاہیے کہ روازنہ دو رکعت صلوٰۃ الحاجۃ پڑھ کر خوب گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے حالات کی بہتری کی دعا کیا کریں۔ اپنے بیٹے کو محبت اور سلیقہ سے سمجھائیں کہ والد سے معافی مانگے۔ نیز اپنے شوہر کو بھی اس بات کا احساس دلائیں کہ اولاد کی غلطیوں کو معاف کریں! اسی میں خیر وبرکت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم ہے۔ نیز جب تک ان خاتون کے شوہر رضا مند نہیں ہوتے تب تک ان کے مملوکہ مال سے ان کی اجازت کے بغیر کسی کو رقم دینا جائز نہیں حتی کہ اپنے بیٹے کو بھی دینا جائز نہیں۔ہاں! البتہ یہ خاتون اپنی ذاتی رقم سے اپنے بیٹے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیں تو اس کی گنجائش ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved