- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ جو ایک واقعہ بہت زیادہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بوڑھی عورت تھی جو پیارے آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا وغیرہ ڈال دیا کرتی تھی یہ واقعہ کہاں تک درست ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تحقیق و بسیار کے باوجود یہ واقعہ کہیں نہ مل سکا ۔یہ واقعہ من گھڑت ہے اور ایسا نہ تو مکہ مکرمہ میں ہوا اور نہ مدینہ منورہ میں۔کچره پھینکنے کا اصل واقعہ:
ام جمیل ابولہب کی بیوی مکہ میں کانٹے اور کچره آپ علیہ السلام کے گھر کے سامنے پھینکتی تھی جس پر آپ علیہ السلام فرماتے تھے: “ای جوار هذہ؟” یہ کیسا پڑوس ہے،اور سورة اللهب میں اللہ تعالیٰ نے ” حَمَّالَة الْحَطَب “ اسی عورت کے بارے میں فرمایا۔تفسیرجلالین ، تفسیر طبری ۔سورۃ اللہبواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved