- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آج کل لوگوں میں ”جمعہ مبارک“ کہنے کا رواج چل پڑا ہے۔ گفتگو میں، سوشل میڈیا پر امیج کی شکل میں لکھ کر، ہر طریقےسے اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے حالانکہ اس کا ثبوت قرآن و احادیث کی روشنی میں نہیں ہے۔ نیز عوام میں مستقبل میں سنت سمجھ کر رواج دینے کا بھی خطرہ موجود ہے ۔
اب معاملہ یہ ہے کہ بعض حضرات نے ”مبارک“ کے معنی کی طرف نظر کرتے ہوئے جمعہ مبارک کہنے کی اجازت دی ہے کہ یہ دعا ہے جس کی گنجائش ہے جبکہ بعض حضرات نے مطلقاً منع لکھا ہے.اولاً … ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پرثانیاً… مستقبل میں بدعت کا خطرہ ہونے کی بنا پر سدًّا للذریعۃثالثا… اور بھی چیزوں میں اصل اجازت کو دیکھ کر بغیر ثبوت کے دیگر اعمال کے جواز کی راہ کھلنے کا امکان ہونے کی بناء پر ۔بندہ عرض گذاشت ہے کہ شریعت کی روشنی میں مفصل مدلل جواب مرحمت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہمارا موقف اس بارے میں یہ ہے کہ جمعہ کے دن کو ”جمعۃ المبارک“ کہنا یا لکھنا محض کہنے اور لکھنے کی حد تک تو درست ہے کیونکہ اس میں خیر و برکت کا وجود ہے۔ البتہ آج کل جس طرح اس کی مبارکباد دینے کا رواج چل پڑا ہے اس سے سخت خطرہ ہے کہ آئندہ چل کر یہ مستقل رسم کی صورت نہ اختیار کر لے۔ اس لیے مبارکباد (چاہے وہ میسج یا پوسٹ یا ای میل کی صورت میں ہو یا کسی بھی اور طریقہ سے ہو) دینے سے احتراز کرنا چاہیے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved