• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

استفتاء

“جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم” منانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ کے دور میں اس چیز کا وجود تھا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت عینِ ایمان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ خیر باعثِ اجرو ثواب اور سببِ نجات ہے۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہر لمحہ ہر گھڑی کرنا چاہیے، اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔   کسی ایک دن کو اس کام کے لیے متعین کر لینا اسلامی تعلیمات کے سراسر  خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت مبارکہ کا مقصد امت کو دونوں جہانوں میں  فلاح اور کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے اور   یہ    چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت  پر عمل پیرا ہونے سےہی حاصل ہو تی ہے۔ راہِ سنت سے ہٹ کر کامیابی کا دعویٰ کرنا  خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ مروّجہ جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ کے مبارک ا َدوار کے ساتھ دُور  کا بھی تعلق نہیں۔ ان کے زمانےمیں اس کا  نام و نشان  تک نہ تھا۔ سن 604ھ میں موصل شہر میں مظفر الدین کوکری نامی ایک بےدین اور فضول خرچ بادشاہ  نے سب سے پہلے اس بدعت کو ایجاد کیا۔ ہر زمانہ میں علماء حق نے اس کے خلاف آواز بلند کی ، اور اس کے بدعت ہونے کو دلائل سے ثابت کیا۔  تفصیل کے لیے مطالعہ کیجیے۔(1) اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم ………. مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تعالیٰ(2)  فتاویٰ حقانیہ  (جلد دوم صفحہ 92 تا95  )……………. شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق حقانی رحمہ اللہ تعالیٰ (3) راہِ سنت………….. امامِ اہل السنت  مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰواللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved