• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جانوروں کو نصف حصہ پر دینے کی دو صورتوں کا حکم اور متبادل جائز صورت کی تعیین

استفتاء

عرض یہ ہے کہ دیہاتوں میں عام طور پر دو طریقوں سے جانور سانجھے کیے جاتے ہیں:
(1): زید نے بکر کو 30000 میں جانور خرید کر دیا۔ بکر کے ذمہ اس جانور کو اپنے خرچ پر پالنا ہے۔ جانور کے نقصان کا ذمہ دار زید ہوتا ہے۔ پھر ایک معینہ مدت کے بعد یہ دونوں اس جانور کو فروخت کر دیتے ہیں اور جو نفع ہوتا ہے وہ آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں ۔(2): زید نے بکر کو گائے خرید کر دی کہ تم اس کو کھلاؤ پلاؤ اور اس کے دودھ سے فائدہ اٹھاؤ! اگلے سال جب یہ گائے دوبارہ بچہ پیدا کرے گی تو اس وقت اس کے پہلے بچے اور گائے کو فروخت کر کے نفع کو آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں بھی جانور کے نقصان کا ذمہ دار آخر تک زید ہی رہتا ہے۔کیا یہ صورتیں شرعاً جائز ہیں؟ اگر نہیں تو متبادل صحیح صورت کیا ہونی چاہیے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سوال میں مذکور دونوں صورتوں کا معاملہ ناجائز ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ اجارہ (کسی کو اپنے کام پر مز دور رکھنا) ہے اور اجارہ میں ضروری ہے کہ اجیر (جانور کی دیکھ بھال کرنے والے شخص) کی اجرت معلوم ہو۔ یہاں دونوں صورتوں میں اجیر یعنی بکر کے ذمہ جو کام ہے اس کی اجرت معلوم نہیں بلکہ مجہول ہے۔ کیونکہ آئندہ یہ جانور یا اس کا بچہ کتنے میں فروخت ہو گا یہ معلوم نہیں۔ اجرت کے مجہول ہونے کی صورت میں اجارہ فاسد ہے۔ اگر کسی نے اس طرح جانور حصہ پر دیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس معاہدہ کو فوراً ختم کر دے۔ جانور اور اس کے بچے اصل مالک کے ہوں گے۔ مزدور جس نے جانور کی دیکھ بھال کی ہے اور اسے چارا کھلایا ہے وہ مالک سے دیکھ بھال کی اجرت اور چارے کی قیمت وصول کرے گا۔ اجرت کا تعین عرف کے اعتبار سے کیا جائے گا کہ اس کام کی جتنی اجرت عام طور پر اس معاشرے میں لی دی جاتی ہے اتنی قیمت وصول کرے گا۔ نیز اس دوران جو دودھ اس نے استعمال کیا ہے اس کی قیمت بھی مالک کو دینا لازم ہو گا۔اس معاملہ کے جواز کی صورت یہ ہے کہ مالک اپنا آدھا جانور دوسرے شخص (جس کو وہ جانور پرورش کے لیے دینا چاہتا ہے) کو فروخت کر دے، پھر اس کی قیمت معاف کر دے اور اسے کہے کہ جانور کی دیکھ بھال کی ذمہ داری تم قبول کر لو اور جو نفع ہوگا وہ ہمارے درمیان نصف نصف ہو گا۔ اب یہ جانور ان دونوں کے درمیان مشترک ہو جائے گا اور اس کا دودھ، اون، بچے وغیرہ بھی مشترک ہوں گے۔ آئندہ اگر جانور یا اس کے بچے فروخت کیے جائیں تو ان کی قیمت ان دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کر لینا درست ہو گا۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
دَفَعَ بَقَرَةً إلٰى رَجُلٍ عَلٰى أَنْ يَعْلِفَهَا وَمَا يَكُوْنُ مِنَ اللَّبَنِ وَالسَّمْنِ بَيْنَهُمَا أَنْصَافًا فَالْإِجَارَةُ فَاسِدَةٌ وَعَلٰى صَاحِبِ الْبَقَرَةِ لِلرَّجُلِ أَجْرُ قِيَامِهِ وَقِيمَةُ عَلَفِهِ إنْ عَلَفَهَا مِنْ عَلَفٍ هُوَ مِلْكُهُ لَا مَا سَرَحَهَا في الْمَرْعٰى وَيَرُدُّ كُلَّ اللَّبَنِ إِنْ كَانَ قَائِمًا وَإِنْ أُتْلِفَ فَالْمِثْلُ إلٰى صَاحِبِهَا… وَالْحِيلَةُ فِيْ ذٰلِكَ أَنْ يَبِيعَ نِصْفَ الْبَقَرَةِ مِنْ ذٰلِكَ الرَّجُلِ …بِثَمَنٍ مَعْلُومٍ حَتّٰى تَصِيرَ الْبَقَرَةُ … مُشْتَرَكَةً بَيْنَهُمَا فَيَكُونُ الْحَادِثُ مِنْهَا عَلَى الشَّرِكَةِ. ترجمہ: ایک شخص نے گائے دوسرے شخص کو اس شرط پر دی کہ دوسرا شخص اس کو چارا کھلائے گا اور اس کا دودھ اور گھی دونوں میں نصف نصف ہو گا تو یہ اجارہ فاسد ہے۔ اب گائے کے مالک کے ذمہ اس مزدور کی اجرت اور چارے کی قیمت دینا واجب ہے بشرطیکہ چارا اس مزدور نے اپنی چراگاہ سے کھلایا ہو اور اگر عام چراگاہ سے کھلایا تو چارے کی اجرت نہ دی جائے گی۔ اگر گائے کا دودھ موجود ہو تو مزدور وہ دودھ بھی مالک کو واپس کرے گا اور اگر دودھ پی لیا ہو تو اتنا دودھ مالک کو دے گا… اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ مالک اپنی نصف گائے اس مزدور کو معلوم قیمت میں فروخت کر دے۔ یوں یہ گائے ان دونوں میں مشترک ہو جائے گی۔ پھر جو کچھ اس سے حاصل ہو گا وہ دونوں میں مشترک طور پر رہے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved