• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جنت میں مسلمان عورتوں کو کیا ملے گا؟

استفتاء

جنت میں مَردوں کو ستر ستر حوریں ملے گی مگر مسلمان عورتوں کو اس کے بدلے کیا ملے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس کے بارے میں تفصیل حسبِ ذیل ہے:(1) اگر فوت ہونے والی مسلمان عورت کنواری ہو یا شادی شدہ تو ہو مگر اس کا شوہر جنّتی نہ ہو تو وہ جنت میں جس مرد کو پسند کرے گی اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا جائے گا۔ اگر وہ جنت میں موجود مَردوں میں سے کسی کو بھی پسند نہ کرے گی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک مرد پیدا کریں گے جس کے ساتھ اس کا نکاح ہو گا۔(2) اگر فوت ہونے والی عورت شادی شدہ ہو اور مرتے دم تک ایک ہی شخص کے نکاح میں رہی ہو تو وہ جنت میں اپنے اسی شوہر کے ساتھ رہے گی۔ ان دونوں کے دِلوں میں اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دیں گے۔ یہ مسلمان عورت حورانِ جنت کی ملکہ ہو گی۔(3) اگر فوت ہونے والی عورت شادی شدہ ہو اور دنیا میں ایک سے زائد افراد کے نکاح میں رہی ہو، جیسے کسی کا شوہر فوت ہوا یا کسی کو خاوند نے طلاق دے دی تو اس نے دوسرے مرد سے نکاح کر لیا، تو اس صورت میں یہ عورت جنت میں اپنے اس خاوند کے ساتھ رہے گی جس کا اخلاق اور برتاؤ دنیا میں اس کے ساتھ بہت اچھا تھا۔ جس شوہر نے نامناسب روِیّہ رکھا ہو گا اس کے ساتھ نہیں رہے گی۔ اگر تمام شوہر عمدہ اخلاق اور حُسنِ سلوک سے پیش آئے ہوں گے تو سب سے آخر والے شوہر کے ساتھ رہے گی، یا پھر اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ رہنا چاہے رہ سکتی ہے۔فائدہ: جیسے دنیا میں ایک عورت بیَک وقت ایک ہی مرد کے نکاح میں رہ سکتی ہے، ایک سے زائد مردوں کے نکاح میں رہنا اس کے لیے جائز نہیں ، سراسر حرام ہے۔ اسی طرح جنت میں بھی ایک ہی مرد کے نکاح میں رہے گی۔ بیَک وقت ایک سے زائد مَردوں کے نکاح میں رہ کر ان کی بیوی بن کر رہنا خلافِ فطرت ہے، اس لیے ایسا نہیں ہو گا، اور جنّتی عورت کے دل میں اس کی خواہش بھی پیدا نہیں ہو گی۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved