• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جبر (اکراہ) اور غصے کی حالت میں طلاق کا شرعی حکم

استفتاء

کیا جبراً طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ اور کیا غصے میں بھی طلاق ہو جاتی ہے؟ چاروں ائمہ کے نزدیک کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دونوں شقوں کا جواب درج ذیل ہے:جبر (اکراہ) کی حالت میں طلاق کا حکم:شرعی طور پر جبر یا اکراہ کی دو صورتیں ہیں، جن کے احکامات مختلف ہیں:پہلی صورت: اکراہِ ناقصاگر مجبور کرنے سے مراد صرف اصرار، تعلقات ختم کرنے کی دھمکی یا گالی گلوچ ہو، جس میں جان لینے یا عضو ضائع کرنے کا خطرہ نہ ہو، تو ایسا شخص شرعاً مجبور شمار نہیں ہوتا۔ اس صورت میں دی گئی طلاق (خواہ زبانی ہو یا تحریری) واقع ہو جاتی ہے۔دوسری صورت: اکراہِ تاماگر طلاق نہ دینے کی صورت میں جان سے مارنے یا کسی عضو کو ضائع کرنے کی ایسی دھمکی دی جائے جسے پورا کرنے پر دھمکی دینے والا قادر بھی ہو، تو اس کے دو الگ احکامات ہیں:1: تحریری طلاق:اگر ایسی سخت مجبوری (اکراہِ تام) میں صرف طلاق کے کاغذات یا اسٹام پیپر پر دستخط کیے جائیں، تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔2: زبانی طلاق:اگر ایسی حالت میں زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کیے جائیں، تو فقہ حنفی کے نزدیک طلاق واقع ہو جائے گیغصے کی حالت میں طلاق کا حکم:عام طور پر طلاق غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے، اس لیے محض غصہ طلاق کے وقوع کو نہیں روکتا۔ہاں اگر غصہ اس درجے کا ہو کہ انسان کے حواس معطل نہ ہوں اور اسے معلوم ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، تو طلاق واقع ہو جائے گی۔البتہ، اگر غصہ اتنا شدید ہو کہ انسان مدہوشہو جائے، اس کی عقل مغلوب ہو جائے اور اسے یہ بھی پتہ نہ رہے کہ وہ کیا کر رہا ہے، تو ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اس کا اندازہ اس وقت کے دیگر افعال و اقوال سے لگایا جاتا ہے۔دلائل:دلیل نمبر 1:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “تین چیزیں ایسی ہیں جن کا حقیقت میں کرنا بھی حقیقت ہے اور مذاق میں کرنا بھی حقیقت ہی شمار ہوتا ہے: نکاح، طلاق اور رجوع”۔(جامع الترمذی: ج 1 ص 225 باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق)
دلیل نمبر 2:حضرت صفوان بن عمران الطائی سے مروی ہے کہ ایک شخص کو اس کی بیوی نے چھری دکھا کر طلاق پر مجبور کیا، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”لا قیلولۃ فی الطلاق”(یعنی طلاق میں کوئی واپسی یا معافی نہیں ہے)۔(اعلاء السنن: ج 11 ص 177 طبع ادارۃ القرآن کراچی)
دلیل نمبر 3:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکرہ (مجبور شخص) کی طلاق کو واقع قرار دیتے تھے۔(مصنف عبدالرزاق، ج:6، ص:406 تا 411)
فائدہ نمبر 1:حدیث “لا طلاق فی اغلاق” میں لفظ اغلاق سے مراد حنفیہ کے نزدیک عقل کا مغلوب ہونا (مدہوشی) ہے، نہ کہ جبر۔(سنن ابی داؤد: ج1 ص 305، اعلاء السنن: ج 11 ص 180)
فائدہ نمبر 2:امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک جبر (اکراہ) کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved