• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

امام مسجد کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟

استفتاء

گاؤں کی مسجد میں قاری صاحب نماز پڑھاتے ہیں ،کیا اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر امام غریب ہے، صاحب نصاب نہیں ہے یا مقروض ہے تو اس کو زکوۃ دینا اور امام کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہو گا ۔ اور ایسی صورت میں کمیٹی اور نمازیوں کے لیے امام کو دوسروں پر ترجیح دینا زیادہ مناسب ہوگا تاکہ وہ معاش سے بے فکر ہوکر دین کا کام کر سکے۔اگر امام غریب نہیں بلکہ نصاب کا مالک ہے تو جان بوجھ کر ایسے امام کو زکوۃ دینا اور امام کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہوگا ۔زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقم امام کو امامت کی اجرت اور تنخواہ میں دینا جائز نہیں ہے کیو نکہ زکوٰۃ کی رقم بلا عوض مالک بنا کر دینا شرط ہے، کسی چیز کے عوض میں دینے کی صورت میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ۔بعض علاقوں میں مسجد کے امام کو ہر حال میں زکوٰۃ کا مستحق سمجھتے ہیں یہ بھی درست نہیں۔ اس لیے مستحق ہونے کی صورت میں زکوۃ دیں ورنہ نہیں بلکہ زکوۃ کے علاوہ صدقات نافلہ اور ہدیہ تحفہ سے مدد کریں ۔فتاوی ہندیہ میں ہے:التصدق علی الفقیر العالم افضل من التصدق علی الجاھل(فتاوی ہندیہ ۔کتاب الزکوۃ ،الباب السابع فی المصارف، ج1ص187)
ترجمہ: فقیر عالم کو صدقہ دینا غیر عالم پر صدقہ کرنے سے افضل ہے ۔مزید فتاوی ہندیہ میں ہے:ولا یجوز دفع الزکوٰۃ الی من یملک نصابا ای مال کان(فتاوی عالمگیری۔ج1ص 189)
ترجمہ: صاحب نصاب کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے ، چاہے اسکا نصاب جس مال سے بھی پورا ہو جاتا ہو ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved