• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

”علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک“ کی تحقیق

استفتاء

عرض ہے کہ متعدد جگہوں پر یہ بات لکھی ہوتی ہے: ”علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک۔“ اکثر لوگ اس کو حدیث کہتے ہیں لیکن کچھ حضرات اس کے مقولہ ہونے کے بھی قائل ہیں۔ اس لئے آنجناب سے درخواست ہے کہ وضاحت فرما دیں کہ صحیح کیا ہے؟ اگر یہ حدیث ہے تو آیا صحیح ہے یا ضعیف، اور اس کے راوی کون ہیں؟ اور اگر یہ مقولہ ہے تو کس کا ہے؟ جواب مرحمت فرما کر شاکر فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے بلکہ طلبِ علم کی اہمیت کو بیان کرنے کے لیے علماء اسے بیان کرتے رہتے ہیں۔ عصرِ قریب کے نامور عالم دین شیخ عبد الفتاح ابو غدہ (ت1317ھ) اپنی کتاب ” قيمة الزمن عند العلماء “ میں لکھتے ہیں:“اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد” ليس بحديث نبوي، وإنما هو من كلام النّاس، فلا يجوز إضافته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم… وهذا الحديث الموضوع “اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد” مشتهر على الألسنة كثيرا، ومن العجب أن الكتب المؤلفة في ” الأحاديث المنتشرة” لم تذكره”.( قیمۃ الزمن عند العلماء: ص 29)
ترجمہ: ”علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک“ یہ حدیث نبوی نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کا کلام ہے۔ اس لیے اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز یہ موضوع حدیث کہ ”علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک“ لوگوں کی زبان پر مشہور ہو چکی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ منتشر (وموضوع) احادیث کے لیے جو کتب لکھی گئی ہیں ان میں ان کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔بہت تلاش کے باوجود اس مقولہ کے قائل کا علم نہ ہو سکا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved