• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ہونے والی ساس سے زنا اور حرمتِ مصاہرت کا حکم

استفتاء

میرا نام محمد رحیم ہے۔ میں بہت غریب گھرانے کا لڑکا ہوں اور میری عمر گزشتہ اگست میں مکمل 26 سال ہو چکی ہے ۔ میری برادری میں دور دور تک نہ کوئی عالم ہے نہ عالمہ، صرف گریجویٹ لڑکے اور لڑکیاں ہیں ۔ہم جہاں بھی رشتہ کی بات کرتے تھے تو لڑکی والے یا تو داڑھی کی وجہ سے یا پھر غربت کی وجہ سے انکار کر دیتے تھے ۔ تو اسی پریشانی کے عالم میں میری والدہ ماجدہ نے اپنی بہت قدیمی سہیلی سے میرا رشتہ طے کر دیا ۔اسی دوران والدہ کے حکم پر میں نے لڑکی کی والدہ کے ساتھ ایک لمبا سفر کیا ان کے بھائی کی عیادت کے لیے۔اس لیے کہ ان کے صرف دو لڑکے ہیں جو بہت چھوٹے ہیں اور یہ اکثر بیمار بھی رہتی ہیں ۔بہرحال جب ہم منزلِ مقصود پر پہنچ گئے تو ان کے بھائی کے اہل وعیال نے ہسپتال ہی میں قیام کیا اور اپنی دو بیٹیوں کو ہمارے ساتھ اپنے گھر قیام کے لیے بھیج دیا۔ مختصر یہ کہ میں رات کے وقت اپنی ہونے والی ساس کے پاس آیا اور ان سے جبراً زنا کی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے میرے سامنے اپنے ہاتھ جوڑے، مجھے خوب ہٹانے کی کوشش کی، مجھے مارا یہاں تک کہ میری والدہ کے وعدہ کی دہائی بھی دی لیکن میں اتنا اندھا ہو چکا تھا کہ ان کی باتوں کا مجھ پر ذرا بھی اثر نہ ہوا اور میں ان سے جبراً زنا کر بیٹھا اور صرف ایک بار پر ہی بس نہیں کیا دو بارہ بھی جبراً زنا کیا۔ پھر میرے دل میں ایک دم اللہ تعالیٰ کا خوف طاری ہوا تو میں نے فوراً غسل کیا اور نادم ہوکر اللہ سے رجوع کیا۔ پھر میں ان کے پاس گیا اور ان کے پیروں میں اپنی ٹوپی رکھ کر اور ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی۔ تو انہوں نے مجھے بہت بد دعائیں دیں اور روتے ہوئے کہا کہ تو نے مجھے داغ دار کر دیا، میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گی ۔ یہ کہہ کر وہ بہت روئی اور روتے روتے بیہوش ہو گئی۔ میں نے انہیں ہوش دلایا اور کہا کہ اللہ کے واسطے مجھے جو کچھ بھی کہنا ہے یہاں سے چل کر کہہ لینا! ان کو بات سمجھ آ گئی اور ہم دونوں اپنے اپنے گھر واپس آ گئے۔تب ہی سے میں اپنے گھر والوں کو اشارةً حرمت مصاہرت ثابت ہونے کی وجہ سے سمجھاتا رہا کہ وہاں رشتہ نہ کریں تو میری والدہ صاحبہ کہتیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور راضی بھی تو نہیں ہے، اس لیے کہ ہمارے گھر والوں کو میری غلطی کا علم نہیں ہے ۔احقر کا ایک ایک لفظ سچائی پر مبنی ہے !اور میں عرض کر دوں کہ میں ابتدائے جوانی میں بہت شرارتی تھا لیکن اس علمِ دین اور بزرگوں کی صحبت سے بہت ہی جلد میں نے گناہوں سے توبہ کر لی تھی لیکن عرصہ دراز کے بعد مجھ سے یہ خبیث گناہ سرزد ہو گیا جس پر مجھے شرمندہ ہوتے ہوئے آٹھ مہینے ہو چکے ہیں ۔ ان دنوں میں بھی میرا کوئی رشتہ بھی نہیں آ رہا ہے۔حضرت! میں اپنی شادی نہ ہونے سے بہت مایوس ہو گیا ہوں۔ میرے گھر والے اور لڑکی کی ماں کے علاوہ اس کے سب گھر والے بھی نکاح کی ضد کر رہے ہیں۔ اب میں کیا کروں؟ میں ہمیشہ روزے بھی نہیں رکھ سکتا !میں نے فقہ کی بہت بڑی بڑی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن فقہ احناف میں کہیں کوئی گنجائش نظر نہ آئی، اس لیے کہ احناف کے یہاں دلائل بہت قوی ہیں لیکن فقہ شافعی و حنبلی میں بہت گنجائش نظر آئی۔ تو کیا فقہائے کرام میری دشواریوں کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے صرف اس مسئلہ کے لیے چند پابندیوں میں جکڑ کر خروج عن المذھب کی اجازت دے سکتے ہیں ؟
میں نےاپنی کم عقلی وکم علمی کے باوجود چاروں فقہ کے بنیادی اصول سمجھنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ امام مالک رحمہ اللہ صحیح حدیث کے باوجود بھی مدینہ کے مسلمانوں کے عمل کو ترجیح دیتے تھے ۔امام شافعی رحمہ اللہ فقہی اصول وضوابط کو صحیح حدیث کے آنے پر ترک فرماتے تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ صرف ایک حدیث کی بنیاد پر اصول وضوابط ترک نہیں فرماتے تھے اس لیے کہ متعدد احادیث سے اصول وضوابط بنتے ہیں اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے یہاں توسع ہے، وہ ہر حدیث پر عمل کرنا چاہتے ہیں ۔اسی لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ مذکورہ مسئلہ سے متعلق ایک روایت کے مطابق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اور دوسری روایت کے مطابق امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔یقیناً یہ مسئلہ بہت سنگین ہے لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر فقہی اصول کے مطابق اس مسئلہ میں حلت کی گنجائش ہے تو ضرور میری پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے مہربانی کا معاملہ فرمائیں!میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد چاہے کتنی ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے لیکن خروج عن المذہب کا سوال نہیں کروں گا !

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[1]: ہونے والی ساس سے زنا کرنے کی بناء پر حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہے۔ اس لیے اس عورت کی بیٹی سے آپ کا نکاح کرنا ناجائز و حرام ہے۔ کوئی عذر کر کے (مثلاً یہ کہ مجھے لڑکی پسند نہیں وغیرہ) اس رشتے سے صراحتاً انکار کر دیں۔[2]: زنا کے ذریعے حرمتِ مصاہرت کا تحقق علمائے احناف کے ہاں مسلّم ہے۔ حنابلہ کا موقف بھی یہی ہے اور ایک روایت مالکیہ سے بھی یہی منقول ہے۔ احناف کے تمام متبحر علماء کا فتویٰ زنا سے حرمتِ مصاہرت کے ثابت ہونے کا ہے۔ کسی کے نزدیک بھی فی زماننا ایسی ضرورت داعیہ نہیں پائی جا رہی جس کی وجہ سے غیر مذہب پر فتویٰ دیا جائے۔ محض ایک فرد کی انفرادی رائے اور ذاتی ضرورت کی وجہ سے دوسرا مذہب اختیار کرنے کا کوئی اعتبار نہ ہو گا۔ اس لیے دوسرے مذہب پر فتویٰ دینا یا اختیار کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا اس عمل سے احتراز کرنا لازم ہے۔[3]: توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ نئے رشتے کے لئے دعا بھی کرتے رہیں اور اپنے جاننے والوں کے ذریعے تلاش بھی جاری رکھیں واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved