- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مجھے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ کے بارے میں جاننا ہے جو ان کے اسلام لانے کا سبب بنا تھا، براہِ کرم یہ واقعہ تفصیل سے بتا دیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ :حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا تفصیلی واقعہ خود انہی کی زبانی سنیے:فرماتے ہیں کہ میں صوبہ ”اصبہان“ میں ایک جگہ کا رہنے والا ہوں جس کا نام ”جے“ہے۔ میرا باپ اس جگہ کا سردار تھا اور مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔ میں نے اپنے قدیم مذہب مجوسیت میں اتنی کوشش کی کہ آتش کدہ کا محافظ بن گیا۔ مجھے باپ نے ایک مرتبہ اپنی جائیداد کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ راستہ میں میرا گزر نصاریٰ کے گرجا پر ہوا۔ میں سیر کے لیے اندر چلا گیا، ان کو نماز پڑھتے دیکھا تو وہ (جگہ)مجھے پسند آگئی۔ میں شام تک ادھر ہی رہا اور ان سے پوچھا کہ تمہارے دین کا مرکز کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شام میں ہے۔میں رات واپس گھر آیا تو گھر والوں نے مجھ سے پوچھا کہ تو تمام دن کہاں رہا؟ میں نے سارا قصہ سنایا۔ میرے باپ نے مجھے سمجھایاکہ بیٹا وہ دین اچھا نہیں، اچھا دین مجوسیت ہی ہے مگر میں اپنی رائے پر قائم رہا۔ باپ کو خدشہ ہو گیا کہ میں کہیں چلا نہ جاؤں تو باپ نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر مجھے بند کر دیا۔ میں نے عیسائیوں کو پیغام بھیجا کہ جب شام سے سوداگراور تاجر آئیں تو مجھے مطلع کریں۔ چنانچہ کچھ تاجر آئے تو انہوں نے مجھے مطلع کردیا۔ جب وہ واپس جانے لگے تو میں نے پاؤں کی بیڑیاں کاٹ ڈالیں اور ان کے ساتھ ملک شام چلا گیا۔وہاں جاکر میں نے تحقیق کی کہ یہاں پر اس مذہبِ عیسائیت کا سب سے بڑا عالم کون ہے؟ تو لوگوں نے بتلایاکہ فلاں گرجے کا فلاں بشپ بڑا ماہر ہے۔ میں اس کے پاس چلا گیا اور بتایا کہ مجھے تمہارے دین میں رغبت ہے اور تمہارے پاس رہ کر تمہاری خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے منظور کرلیا مگر وہ اچھاآدمی نہ تھا، بہت بخیل اور زر پرست تھا۔ جو مال جمع ہوتاوہ اپنے خزانہ میں جمع کرلیتا اور غریبوں پر خرچ نہ کرتا۔ جب یہ مر گیا تو اس کی جگہ دوسرا راہب بٹھایا گیا۔ یہ اس سے بہتر تھا، دنیا سے بے رغبت تھا۔ میں اس کی خدمت میں رہنے لگا۔ جب اس کے مرنے کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے کہا کہ مجھے کسی کے پاس رہنے کی وصیت کرتے جاؤ!تو اس نے کہا کہ میرے طریقہ پر دنیا میں صرف ایک شخص ہے جو کہ ”موصل“ میں رہتا ہے، تم اس کے پاس چلے جانا۔ اس کے مرنے کے بعدمیں موصل چلا گیا اور اس راہب کو سارا قصہ سنایا اور بتایا کہ میں تمہاری خدمت میں رہنا چاہتا ہو ں۔ اس نے منظور کرلیا۔ میں اس کی خدمت میں رہا۔ وہ بہترین آدمی تھا۔جب اس کی بھی وفات ہونے لگی تو میں نے پوچھا کہ میں اب کہاں جاؤں؟ تو اس نے کہا کہ فلاں شخص ”نصیبین“ میں ہے، اس کے پاس چلے جانا۔میں اس کے مرنے کے بعد نصیبین چلا گیا اور اس شخص کو اپناقصہ سنایا،خدمت میں رہنے کی درخواست کی جو کہ منظور ہو گئی۔ وہ بھی اچھا آدمی تھا۔ جب اس کے مرنے کا وقت آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ میں اب کہاں جاؤں؟ اس نے کہا : ”غموریا“ میں فلاں شخص کے پاس چلے جانا۔ میں وہاں چلاگیا۔ وہاں بھی اس طرح قصہ پیش آیا۔ وہاں جاکر میں نے کام شروع کردیا اور میرے پاس چند ایک گائے اور کچھ بکریاں جمع ہو گئیں۔ جب اس کی بھی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤں؟ تو اس نے کہاکہ اب زمین پر کوئی شخص ایسا نہیں جو کہ ہمارے طریقہ پر چل رہا ہو البتہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کا زمانہ قریب ہے، وہ دینِ ابراہیمی پر عرب میں پیدا ہوں گے، ان کی ہجرت کی جگہ ایسی زمین ہے جہاں کھجوریں کثرت سے پیدا ہوتی ہیں، اس زمین کے دونوں جانب کنکریلی زمین ہے، آپ ہدیہ نوش فرمائیں گے اور صدقہ قبول نہ فرمائیں گے، ان کے دونوں شانوں (کندھوں) کے درمیان مہرِ نبوت ہوگی۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو ان کی سر زمین پر پہنچ جا۔اس کے مرنے کے بعد قبیلہ بنو کلب کے چند تاجر وہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کہا کہ اگر تم مجھے اپنے ساتھ عرب لے چلو تو میں بدلہ میں تمہیں گائے اور بکریاں دے دوں گا۔ انہوں نے قبول کر لیا اور مجھے اپنے ساتھ مکہ مکرمہ لے آئے۔ میں نے گائے اور بکریاں ان کو دے دیں مگر انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا کہ مجھے اپنا غلام ظاہر کیا اور مکہ مکرمہ میں بیچ دیا۔ بنو قریظہ کے ایک یہودی نے مجھے خرید لیا اور اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے آیا۔ مدینہ منورہ پہنچتے ہی میں پہچان گیا کہ یہ وہی جگہ ہے جس کی نشاندہی غموریا کے پادری نے کی تھی۔ میں مدینہ میں رہتا رہا کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں تشریف فرما تھے۔ اطلاع ملتے ہی جو کچھ میرے پاس تھا میں لے کر حاضر ہوگیااور عرض کیا کہ یہ صدقہ کا مال ہے۔ تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تناول نہ فرمایا اورصحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایاکہ تم کھالو!میں خوش ہو گیاکہ ایک علامت تو پوری ہوئی۔ پھر مدینہ آگیا اور کچھ جمع کیا۔ پھر خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ تشریف لا چکے تھے۔ میں نے کچھ کھجوریں اورکھانا پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ ہدیہ ہے۔تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا۔میں نے دل میں کہا کہ دوسری علامت بھی پوری ہوگئی۔اس کے بعدمیں ایک مرتبہ پھر حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں کسی صحابی کے جنازے کے لیے تشریف فرما تھے۔ میں نے سلام کیا اور پشت کی طرف گھومنے لگا۔ آپ میری منشاء سمجھ گئے اور کمر سے چادر کو ہٹا دیا۔ میں نے مہرِ نبوت کو دیکھا اور جوش میں اس پر جھک گیا۔ اس کو چومتا رہا اور روتا رہا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے آؤ میں سامنے آیا اور سارا قصہ سنایا۔اس کے بعد اپنی غلامی میں پھنسا رہا۔ ایک مرتبہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مالک سے مکاتبت کا معاملہ کر لو۔ میں نے اس سے معاملہ طے کیا اور بدلِ کتابت دو چیزیں مقرر ہوئیں۔ ایک یہ کہ چالیس اوقیہ سونا نقد (ایک اوقیہ چالیس درہم کا اور ایک درہم تین یا چار ماشہ کا ہوتا ہے ) دوسری یہ کہ تین سو کھجور کے درخت لگاؤ ں اور ان کی پرورش کروں اور پھل لانے تک ان کی خبر گیری کرتا رہوں۔چنانچہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے کھجوریں لگائیں جو کہ اسی سال پھل لے آئیں اور اتفاق سے کسی جگہ سے سونا بھی آگیا حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (یعنی سلمان فارسی کو) مرحمت فرمادیا کہ جاؤ اور اس کو بدلِ کتابت میں ادا کردو۔ میں نے عرض کیا: حضرت! یہ کافی نہیں ہوگا، یہ تھوڑا ہے اور بدلِ کتابت کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جل شانُہ اسی سے پورافرما دیں گے۔ چنانچہ میں لے کر گیا اور بدلِ کتابت اس میں سے دے دیا۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سے زیادہ آقاؤں کے پاس رہا ہوں۔(زبدۃ الشمائل: ص47)
واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved