- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کل ایک مسئلہ کا جواب آپ کی طرف سے موصول ہوا، جزاکم اللہ خیراً احسن الجزاء۔ البتہ اس مسئلہ سے متعلق ایک بات کی وضاحت رہ گئی تھی جو حسبِ ذیل ہے:اس زمین کا قبضہ انہوں (مرحوم عبدالودود )نے اپنی زندگی میں اپنی بیوی کو دیا تھا ، اس سے متصل زمین میں کاشت کرتے تھے مگر اس (ہبہ شدہ)زمین کو کئی سالوں سے خالی چھوڑا ہوا تھا۔ اور اس عورت کو بتایا گیا کہ یہ آپ کی ہوگئی ہے، مگر انتقال(رجسٹری) کے متعلق ان کو پتہ نہیں تھا ۔ مگر کوئی مکان یا چاردیواری نہیں بنوانی تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جب ہبہ کی ہوئی زمین کے بارے میں واہب (مرحوم عبدالودود) کی اہلیہ کو بتا دیا گیا تھا اور اس کا قبضہ بھی ہو چکا تھا، تب اس صورت میں شرعی طور پر ہبہ تام ہو گیا، لہٰذا وہ زمین واہب کی ملکیت سے نکل کر اس کی اہلیہ کی ملکیت میں داخل ہو گئی تھی، اس کےبعد جب واہب دنیا سے رخصت ہوئے تب یہ ہبہ شدہ زمین اس کے ترکہ میں شامل نہیں سمجھی جائے گی۔ اب اسے میراث سمجھ کر تمام ورثہ میں تقسیم کرنا جائز نہ ہو گا کیوں کہ ہبہ تام ہو جانے کے بعد محض انتقال (رجسٹری) سے لاعلم ہونا ہبہ کے تام اور مکمل ہونے میں رکاوٹ پیدا نہیں کرتا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved