- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “بوادر النوادر” میں یہ لکھا ہے کہ مزار پر جانے سے اس اللہ والے کی قبر سے فیض ملتا ہے؟ اور کیا اس عبارت سے یہ استدلال درست ہے کہ مزارات پر جانا مشروع اور باعثِ فیض ہے، جیسا کہ بعض حضرات دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اھل السنۃ والجماعۃ احناف دیوبند کا متفقہ اور واضح موقف یہ ہے کہ حاجت روائی، مشکل کشائی اور نفع و ضرر کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ غیر اللہ کو مستقل بالذات مؤثر ماننا یا ان سے براہِ راست استعانت و استمداد کرنا جائز نہیں۔ البتہ انبیاء و اولیاء کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا، جبکہ اعتقاد یہی ہو کہ دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے، یہ ایک جدا مسئلہ ہے جس کی اپنی تفصیل ہے۔
یہاں دو امور میں فرق کرنا ضروری ہے:
اول: استعانت و استمداد عن القبور
یعنی قبروں والوں سے براہِ راست مدد طلب کرنا، ان کو متصرف فی الامور سمجھنا، یا ان سے فریاد کرنا — یہ طریقہ ناجائز اور خلافِ عقیدہ ہے۔
دوم: قبورِ صالحین سے روحانی فیض کا حصول
اس کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء و اولیاء کی قبور، چونکہ ان کی نسبت سے متبرک مقامات ہیں، اور حدیث کے مطابق بعض قبور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہیں، تو وہاں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور انوار کا نزول ہوتا ہے۔ لہٰذا جو شخص ادب، خشوع اور اصلاحِ نفس کی نیت سے زیارت کرے، وہ بھی ان رحمتوں سے بہرہ مند ہو سکتا ہے — بشرطیکہ اس کا عقیدہ درست ہو اور وہ قبر والے کو مستقل مؤثر نہ سمجھے۔
یہ مفہوم اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ خوشبو فروش کی دکان کے پاس سے گزرنے والا شخص بھی خوشبو سے محروم نہیں رہتا، اگرچہ اس نے براہِ راست کچھ خریدا نہ ہو۔ اسی طرح صالحین کی مجاورت میں رحمتِ الٰہی کے آثار سے حصہ ملنے کی امید کی جاتی ہے، نہ کہ قبر والے سے مستقل فیض رسانی کا عقیدہ رکھا جائے۔
اسی لیے اکابر دیوبند نے قبروں کا طواف کرنا، سجدہ کرنا، چراغاں کرنا، اذان دینا، عرس کے نام پر میلے ٹھیلے اور قوالیاں کرنا، یا قبر والوں کو تصرف والا سمجھنا — ان سب کو بدعت و خرافات میں شمار کیا ہے، اور ان سے براءت کا اعلان کیا ہے۔
اس مسئلہ کی اصل پر روشنی ڈالنے کے لیے محدثینِ کرام کی تصریحات ملاحظہ ہوں:
1: امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ( ت 256ھ) نے “صحیح البخاری: میں ایک باب قائم کیا:
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَاپھر اس کے تحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت طلب کی۔
2: اس روایت کی شرح میں حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی رحمہ اللہ (ت852ھ) فرماتے ہیں:
وَفِيهِ الْحِرْصُ عَلَى مُجَاوَرَةِ الصَّالِحِينَ فِي الْقُبُورِ طَمَعًا فِي إِصَابَةِ الرَّحْمَةِ إِذَا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ.(فتح الباری شرح صحیح البخاری لابن حجر: ج 3 ص 258)
ترجمہ: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قبور میں صالحین کی مجاورت کی حرص رکھی جائے، اس امید سے کہ جب ان پر رحمت نازل ہو تو اس کا اثر پڑوسی کو بھی پہنچے۔
3: اسی طرح حافظ بدر الدین محمود بن احمد بن موسیٰ العینی الحنفی رحمہ اللہ (ت855ھ) لکھتے ہیں:
فِيهِ: الْحِرْصُ عَلَى مُجَاوَرَةِ الصَّالِحِينَ فِي الْقُبُورِ طَمَعًا فِي إِصَابَةِ الرَّحْمَةِ إِذَا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ.(عمدة القاری شرح صحیح البخاری للعینی: ج 9 ص244)
ترجمہ: اس حدیث سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین کی قبور کے قرب میں دفن ہونے کی خواہش کی جائے، اس امید سے کہ ان پر نازل ہونے والی رحمت کا حصہ مل جائے۔
ان تصریحات سے واضح ہے کہ صالحین کی قبور کے قرب کو باعثِ رحمت سمجھنا، اس معنی میں کہ وہاں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے — یہ بات محدثین کے کلام میں موجود ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قبر والوں سے مدد مانگی جائے یا ان کو مستقل تصرف والا مانا جائے۔لہٰذا اگر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے قبورِ اولیاء سے “فیض” کا ذکر کیا ہو تو اس کا صحیح مفہوم یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور انوار کا نزول ان مقامات پر خاص ہوتا ہے، نہ کہ قبر والے کو مستقل مؤثر مانا جائے۔ اس عبارت سے بدعاتِ مزارات یا غیر مشروع افعال پر استدلال درست نہیں۔پس خلاصہ یہ ہے کہ زیارتِ قبور سنت سے ثابت ہے، قبورِ صالحین کی مجاورت باعثِ برکت سمجھی جا سکتی ہے، مگر ہر وہ عمل جو شرعی حدود سے تجاوز کرے، یا عقیدہ میں خلل پیدا کرے، وہ مردود ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved