• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس حیثیت سے نازل ہوں گے؟

استفتاء

سوال یہ ہے کہ قرب قیامت جب عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا تو کیا وہ ایک امتی کی حیثیت سے نازل ہوں گے؟دار العلوم دیوبند کے ایک فتویٰ میں لکھا ہے کہ امتی بن کر نازل ہوں گے ۔جب کہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فتویٰ میں تحریر ہے کہ“اس وقت بھی آپ (حضرت عیسی علیہ السلام) نبی ہوں گے، لیکن یہ نبوت چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے حاصل ہوچکی ہے، اس لیے یہ ختمِ نبوت کے خلاف نہیں ہے”۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان جس میں یہ چار وصف ہوں 1۔انسان ہو، 2۔مبعوث من اللہ ہو، 3۔معصوم عن الخطاء ہو، 4۔مفروض الاتباع ہو) تو (بقول آپ کے) وہ نبی ہوتا ہے اور امتی میں یہ چاروں ا وصاف ایک ساتھ ہو ہی نہیں سکتے، تو پھر نزول عیسی علیہ السلام کے بعد امتی اور نبی کا بنیادی فرق کیسے ختم ہو سکتا ہے؟مجھےحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی کہنا ان کی بے عزتی محسوس ہوتی ہے، یہ بات تو طے شدہ ہے کہ ختم نبوت کے تحت کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا، اسی طرح یہ بات بھی حقیقت ہے کہ نبی کا پیدا ہونا اور بات ہے اور پچھلے نبی کا امت میں آنا اور بات ہے۔حضرت میں نے بہت ساری کتب احادیث کا مطالعہ کیا(فقط مترجم، شرح کوئی نہیں پڑھی) جن میں صحاح سِتّہ، مسند حمیدی، صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمہ، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق،دارمی،بیہقی،تینوں معجم،دار قطنی، مسندابی یعلی موصلی،مسند شافعی،حاکم،دونوں موطا،ابو داؤد الطیالسی،مسند اسحاق بن راھویہ،مسند زید بن علی، شامل ہیں۔حضرت جب میں نے مطالعہ کیا تھا تب ہر کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق احادیث ملیں لیکن امتی ہونے کی کہیں کوئی روایت نہیں ملی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا،نماز امتی امام سے پڑھوانا،حاکم و عادل ہونا،دجال کو مقام لد پر قتل کرنا،صلیب کو تورنا،خنزیر کو قتل کرنا،جزیہ موقوف کرنا،حج کرنا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر پر حاضر ہوکر مخاطب کرنا،روضہ اطہر میں دفن ہونا وغیرہ سب احادیث میں موجود ہے۔آپ سے یہ سوال کرنا میرے لئے بہت اہم ہے کہ ایک نبی امت میں امتی کیسے ہوسکتا ہے؟ نزول کے بعد لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پہچان جب عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی کے روپ میں کریں گےتو پھر وہ امتی کیسے ہو سکتے ہیں؟ البتہ یہ بات حقیقت ہے کہ حاکم ہوں گے، عادل ہوں گے ، اپنی کوئی نئی شریعت نہیں ہوگی ، تمام احکامات ا ور فیصلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی روشنی میں ہی کریں گے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ پاک کے رسول ہیں اور تا قیامِ قیامت رسول ہی رہیں گے، ان کا منصبِ رسالت ختم نہیں ہو گا۔ قربِ قیامت آپ اپنے نزول کے بعد اپنی شریعت پر عمل پیرا نہیں ہوں گے بلکہ دینِ محمدی کے مطابق زندگی گزاریں گے، اس اعتبار سے آپ کی طرف امتی ہو نے کی نسبت کی گئی ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ جس طرح باقی تمام مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی منصبِ رسالت و نبوّت پر فائز ہونے کے باوجود اسی شریعتِ محمدی پرعمل کریں گے ، کیوں کہ آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے احکامات اب منسوخ ہو چکے ہیں، تو اتباعِ شریعت میں باقی امتی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یکساں ہوں گے اس پس منظر میں بعض مقامات میں آپ علیہ السلام کی طرف امتی ہونے کی نسبت کی گئی ہے۔ سوال کی آخری دو سطروں میں جو آپ نے لکھا ہے اس سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے۔لہٰذا یہ تعبیر اختیار کرنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان و شوکت، مقام و مرتبہ، عظمت و رِفعت ، عزت وعصمت اور بزرگی و برتری میں ریت کے ذرہ کے برابر بھی نقص لازم نہیں آتا، چہ جائیکہ (معاذاللہ)بےادبی یا گستاخی لازم آئے۔باقی آپ نے دارالعلوم دیوبند کے جس فتویٰ کی بنیاد پر یہ سوال اٹھایا ہے، وہ فتویٰ آپ نے نقل نہیں کیا۔ ذیل میں اس حوالے سے دارالعلوم دیوبند کا ایک فتویٰ نقل کیا جا تا ہے، جو دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پہ موجود ہے، ملاحظہ کیجیے:سوال نمبر: 30051عنوان: جب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو کیا وہ نبی ہوں گے ؟ میں نے سنا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کے طورپر نازل ہوں گے، کیا ان پر وحی نازل ہوگی؟سوال: سوال یہ ہے کہ جب عیسی ٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو کیا وہ نبی ہوں گے ؟ میں نے سنا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کے طورپر نازل ہوں گے، کیا ان پر وحی نازل ہوگی؟براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔جواب نمبر: 30051بسم الله الرحمٰن الرحيمفتویٰ(د): 615=68-4/1432
حضرت عیسیٰ نے دعا کی تھی کہ ان کو امتِ محمدیہ میں شامل کردیا جائے، ان کی دعا قبول ہوئی، اخیر زمانہ میں فتنہٴ دجال کے دفعیہ کے لیے آسمان سے اتریں گے اور نبی علیہ السلام کا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے ان کی شریعت پر عمل اور حکم کریں گے، نہ کہ اپنی شریعت پر، اس اعتبار سے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہوں گے، گرچہ حقیقت میں نبی ہوں گے۔إنہ ینزل حاکمًا بہذہ الشریعة فإن ہذہ الشریعة باقیة لا تنسخ بل یکون حاکما من أحکام ہذہ الأمة، ولا یکون نزولہ من حیث أنی نبي مستقل کما قد بعث في بني إسرائیل، وفیہ تنبیہ علی أنہ لا یأتي علی أنہ نبي وإن کان نبیًّا في الواقع”(فتح الملہم: ۱/۳۰۰، کتاب الإیمان، باب نزول عیسیٰ)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی مبعوث نہیں ہوں گے بلکہ بحیثیت امتی تشریف لائیں گے اور شریعت محمدیہ پر عمل اور اسی کے مطابق فیصلے فرمائیں گے جب شریعت محمدیہ کے مطابق عمل اور حکم فرمائیں گے تو ان کے لیے جدید وحی کی ضرورت نہ ہوگی؛ اس لیے ان پر کوئی جدید وحی نازل نہیں ہوگی۔“عیسی علیہ السلام یتابع محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیحکم علی شریعتہ، لأن شریعتہ قد نسخت فلا یکون الوحي إلیہ أي لتجدید الشرع ونصب أحکام جدیدة”(نبراس شرح شرح العقائد: ۲۸۰)
واللہ تعالیٰ اعلمدارالافتاء، دارالعلوم دیوبنددرج بالا فتویٰ سےبات پورے طور پر واضح ہو جاتی ہے، امید ہے اب آپ بھی مکمل طور پر سمجھ جائیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved