- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت آدم علیہ السلام دنیا کے کس خطے میں اتارے گئے تھے؟ اور اگر ساتھ میں یہ بھی پتہ چل جائے کہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت ایوب، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان، موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کون کون سی جگہ مبعوث ہوئے تھے؟ براہِ کرم ان کی وضاحت فرما دیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت سے زمین پر اتارے جانے کا ذکر تو قرآن کریم میں موجود ہے لیکن اس بات کی صراحت نہیں کہ کون سی جگہ پہ ان کو اتارا گیا۔ بعض اہلِ تفسیر اور اہلِ تاریخ نے کچھ مقامات کی نشان دہی کی ہے ، مگراس کے بارے میں حتمی طور پر تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کے نزول کی جگہ:
علامہ حافظ ابوالفدا عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر رحمہ اللہ نے اس حوالے سے چار اقوال ذکر کیے ہیں۔
:1 حضرت آدم علیہ السلام کو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ” دحنا” میں اتارا گیا۔
:2 حضرت آدم علیہ السلام کو حجرِ اسود کے ساتھ پہلے مکہ مکرمہ اس جگہ اتارا گیا جہاں آج ”حجرِ اسود“ واقع ہے، پھر آپ کو” ہند“ بھیج دیا گیا۔
:3 حضرت آدم علیہ السلام کو ”ہند“میں اور حضرت حوا علیہا السلام کو ”جدہ“میں اتارا گیا۔
:4 حضرت آدم علیہ السلام کو ”صفا“ میں اور حضرت حوا علیہا السلام کو ”مروہ“ میں اتارا گیا۔
(البدایہ والنہایہ مترجم بنام تاریخ ابنِ کثیر: ج1 ص133)
امام اہل السنۃ والجماعۃ شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
”کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کو سری لنکا کے جزیرہ سراندیپ میں اتارا گیا اور حوا علیہا السلام کو سرزمینِ عرب میں؛ دونوں ایک دوسرے کو تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ عرفات کے میدان میں دونوں کی ملاقات ہو گئی۔“
(ذخیرۃ الجنان فی فہم القرآن: ج1ص135)
حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
” یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیہم السلام زمین کے کس حصہ پر اتارے گئے؟ تو بعض ضعیف روایتوں میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان کی سرزمین پر اور حضرت حوا علیہا السلام جدہ کی سرزمین پر اتارے گئے اور پھر چل کر دونوں عرفات (حجاز) کے میدان میں ایک دوسرے سے جا ملے، اس لیے اس میدانِ حج کا نام عرفات ہوا، کیوں کہ دونوں نے اسی مقام پر ایک دوسرے کو پہچانا۔
لیکن قرآن عزیز نے اس حصہ کو نظر انداز کر دیا ہے کیوں کہ اس کا اظہار رشد وہدایت سے غیر متعلق تھا، البتہ قلبی رجحان اور نفسیاتی برہان اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ آدم و حوا علیہم السلام ایک ہی جگہ اتارے گئے ہوں گے تاکہ حق تعالیٰ حکمتِ بالغہ کے زیرِ اثر جلد ہی نسلِ انسانی کی افزائش اپنا کام کرسکے، اور اس عالَم خاکی کے وارث و مکین خدا کی زمین کو آباد کر کے انسانیت کے سب سے بڑے شرف ” خلافتِ ارضی” کا پورا پورا حق ادا کر سکے۔
(قصص القرآن:ج1ص34)
حضرت نوح علیہ السلام کا مقام بعثت:
آپ کو عراق میں مبعوث کیا گیا۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
” آیتِ قرآن” ولقد ارسلنا نوحاً الیٰ قوم “ سے ثابت ہے کہ نوح علیہ السلام کی بعثت و نبوت صرف اپنی قوم کے لیے تھی، ساری دنیا کے لیے عام نہ تھی، اور ان کی قوم عراق میں آباد بظاہر مہذّ ب مگر شرک میں مبتلا تھی۔
(معارف القرآن : ج3ص593)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام بعثت:
آپ علیہ السلام کی ولادت نمرود بن کنعان کے دور میں بابل کے شہر کوثیٰ میں ہوئی۔ اس کے زیرِ اثر قوم کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ اس علاقے میں آپ نے دینِ حق کی دعوت دی، پھر یہاں سے ہجرت فرما کر ملکِ شام تشریف لے گئے، اس کے بعد مصر گئے، اور سفر کرتے کرتے فلسطین (بیت المقدس) پہنچے اور اس جگہ مستقل سکونت اختیار فرمائی۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت کے بعد بحکمِ اِلٰہی آپ نے حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو بیت المقدس سے لے کر بہت دور ایک بے آباد جگہ ٹھہرایا جہاں آج مکہ مکرمہ آباد ہے، پھر بعد میں یہاں بیت اللہ شریف تعمیر ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات 175 برس کی عمر میں ہوئی اور بیت المقدس کے قریب “حبرون” نامی جگہ میں آپ کی تدفین ہوئی، اس جگہ کو مقامِ خلیل بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت لوط علیہ السلام کا مقامِ بعثت:
حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ اردن کی وہ جانب جہاں آج بحرِ مردار یا بحرِ لوط واقع ہے، اس جگہ سدوم اور عمورہ کی بستیاں واقع تھیں، ان کے باشندوں کی ہدایت کے لیے آپ کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔
حضرت ایوب علیہ السلام کا مقامِ بعثت:
مؤرخین نے آپ علیہ السلام کے حالات میں اس قدر صراحت کی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مقام ِ عوض میں مبعوث فرمایا۔ بعض مؤرخین کے نزدیک عوض حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھے، ان کے نام پر یہ ملک تھا۔ آپ حضرت یوسف اور حضرت شعیب علیہما السلام کے درمیانی زمانہ میں تقریباً ایک یا ڈیڑھ ہزار سال قبل مسیح مبعوث ہوئے تھے۔
حضرت داؤد علیہ السلام کا مقامِ بعثت:
آپ کا مقامِ بعثت فلسطین ہے۔ آپ پہلے فرد تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمانے کے ساتھ سلطنت و بادشاہت سے بھی نوازا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا مقامِ بعثت:
فلسطین میں حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نبوت و رسالت اور سلطنت و بادشاہت دونوں میں آپ کے جانشین بنے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقامِ بعثت:
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا مقامِ بعثت مصر تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقامِ بعثت:
بیت المقدس کے قریب ’’ بیتُ اللحم‘‘ فلسطین کا ایک بہت بڑا گاؤں ہے،جو تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اس جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی ولادت ہوئی تھی۔ فلسطین آپ کا مقامِ بعثت تھا۔
فائدہ: تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے:
:1 قصص الانبیاء…………. امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ تعالیٰ۔
:2 تاریخ ابنِ کثیر …………. علامہ حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ۔
:3 تاریخ ارض القرآن …………. حضرت مولانا علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ۔
:4قصص القرآن …………. حضرت مولانا حِفظ الرحمٰن سیوہاروی رحمہ اللہ تعالیٰ۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved