• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام کیا ہے اور ابوہریرہ کیوں کہا جاتا ہے؟

استفتاء

مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام کیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کو ابوہریرہ کہنے کی وجہ کیا ہے؟ راہنمائی فرمائیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام ”عبد الرحمٰن بن صَخْر “ اور کنیت ”ابو ہریرہ“ ہے۔ ”ہُرَیْرَۃٌ “کا معنی ہے ”بلی کا بچہ“۔ آپ رضی اللہ عنہ کی یہ کنیت وصفی ہے۔ اس کنیت کی وجہ کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں:عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدَ شَمْسٍ فَسُمِّيْتُ فِي الْإِسْلَامِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ، وَإِنَّمَا كُنِّيْتُ بِأَبِيْ هُرَيْرَةَ لِأَنِّيْ وَجَدْتُ هِرَّةً فَجَعَلْتُهَا فِيْ كُمِّيْ، فَقِيْلَ لِي: مَا هٰذِهِ؟ قُلْتُ: “هِرَّةٌ” قِيْلَ: فَأَنْتَ أَبُوْ هُرَيْرَةَ . وَقَدْ رُوِّيْنَا عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَحْمِلُ هِرَّةً يَوْمًا فِيْ كُمِّيْ، فَرَآنِي رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِيْ: “مَا هٰذِهِ؟” فَقُلْتُ: هِرَّةٌ. فَقَالَ: “يَا أَبَا هُرَيْرَةَ.”
وَهٰذَا أَشْبَهُ عِنْدِيْ أَنْ يَكُوْنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنَّاهُ بِذٰلِكَ، وَاللّهُ أَعْلَمُ.
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبد البر: ج2ص70
ترجمہ:” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دورِ جاہلیت میں میرا نام ”عبد الشمس“ تھا اور اسلام لانے کے بعد عبد الرحمٰن رکھا گیا۔ میری کنیت ”ابو ہریرہ“ پڑی۔ وجہ یہ تھی کہ مجھے ایک بلی ملی جسے میں نے اپنی آستین میں رکھ لیا۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ آستین میں کیا ہے؟ میں نے کہا: بلی ہے۔ تو مجھے ”ابو ہریرہ“ (بلی والا) کہا جانے لگا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور وجہ بھی منقول ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنی آستین میں بلی اٹھائے ہوئے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ بلی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ“۔ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک تحقیقی بات یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ”ابو ہریرہ“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی تجویز فرمائی ہے۔ واللہ اعلم”۔

واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved