• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

گولی سے کیے گئے شکار کے حلال ہونے کا حکم

استفتاء

اگر میں نے پرندے یا ہرن کو گولی مار دی، لیکن بندوق پر ٹریگر دبانے پر میں نے بسم اللہ کہا لیکن اس کے بعد میں نے چھری سے بسم اللہ کہہ کر ہرن اور پرندے دونوں کی گردن نہیں کاٹی تو کیا دونوں حلال ہوں گے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

گولی کے ذریعے کیے گئے شکار کے حلال ہونے یا نہ ہونے کا دارومدار گولی کی قسم اور شکار کی موت کی کیفیت پر ہے۔ چنانچہ دونوں کی وضاحت پیش کی جاتی ہے:1: گولی کی اقسام اور ان کا حکمغیر نوک دار گولی: اگر گولی پستول کی طرح گول ہو یا کارتوس کے گول چھرے ہوں، تو جمہور احناف کے نزدیک اس سے کیا ہوا شکار حلال نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی گولی دھار دار نہیں ہوتی اور جانور اکثر گولی کے بوجھ یا زور سے ہلاک ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر جانور گولی لگنے کے بعد ذبح کیے بغیر مر جائے تو وہ حلال نہیں ہوگا۔نوک دار گولی: اگر گولی کلاشنکوف، جی تھری یا تھری ناٹ تھری کی طرح نوک دار اور تیز ہو جو جسم کو چھیدنے (خزق) کی صلاحیت رکھتی ہو، تو اس کا حکم تیر جیسا ہے۔ اگر ایسی گولی بسم اللہ پڑھ کر چلائی جائے اور شکاری کے پہنچنے سے پہلے ہی جانور اس کے زخم سے مر جائے، تو وہ حلال ہوگا۔2: ذبح کرنے کی ضرورتاگر گولی (خواہ کسی بھی قسم کی ہو) لگنے کے بعد آپ جانور کے پاس پہنچے اور وہ زندہ حالت میں موجود ہو، تو اسے شرعی طریقے سے (بسم اللہ پڑھ کر) ذبح کرنا ضروری ہے۔ اگر زندہ پانے کے باوجود اسے ذبح نہ کیا گیا اور وہ مر گیا، تو وہ حلال نہیں ہوگا۔عام گولیوں (جو تیر کی طرح نوک دار نہ ہوں) کا حکم یہی ہے کہ اگر وہ ذبح سے پہلے مر جائیں تو ان کا کھانا جائز نہیں ہے۔خلاصہ جواب یہ ہے کہ اگر آپ نے عام گولی ماری ہے اور جانور ذبح کرنے سے پہلے مر گیا، تو وہ حلال نہیں ہے۔ البتہ اگر گولی نوک دار تھی، آپ نے فائر کرتے وقت بسم اللہ پڑھی تھی اور آپ کے جانور تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ اس زخم سے مر چکا تھا، تو وہ حلال ہے لیکن اگر آپ نے اسے زندہ پایا تھا، تو بغیر ذبح کیے وہ حلال نہیں ہوگا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved