• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غسلِ جمعہ؛ جمعہ کے دن کی سنت ہے یا جمعہ کی نماز کی؟ عورت کے لیے غسلِ جمعہ کا حکم

استفتاء

عرض یہ ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا جمعہ کی نماز کے لیے سنت ہے یا جمعہ کے دن کی سنت ہے ؟ نیز عورت پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے تو کیا یہ غسلِ جمعہ اس کے لیے بھی سنت ہے یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

درج ذیل تین قسم کی روایات ملاحظہ ہوں:
[۱]: حضرت ابو ہریرہ  سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“لِلهِ تَعَالٰى عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ حَقٌّ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا.” 
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن  غسل کرے۔
اس روایت سے ہفتہ میں ایک دن غسل کرنے کی تاکید معلوم ہوتی ہے۔
[۲]: حضرت ابو قتادہ  سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
“مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَمْ يَزَلْ طَاهِرًا إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرٰى.” 
ترجمہ: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے  تو اگلے جمعہ تک وہ پاک صاف رہے گا۔
حضرت ابو سعید خدری   سے روایت ہے کہ رسول اللہ   نے ارشاد فرمایا:
” غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلٰى كُلِّ مُحْتَلِم.” 
ترجمہ: ہر بالغ شخص کو جمعہ کے دن غسل کر لینا چاہیے۔ 
ان جیسی روایات سے جمعہ کے دن غسل کرنے کی تاکید ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ غسل نماز جمعہ کے لیے نہیں  بلکہ جمعہ کے دن کے لیے ہے۔
[۳]: حضرت ابن عمر   سے روایت ہے کہ رسول اللہ   نے ارشاد فرمایا:
“إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ.” 
ترجمہ: جب کوئی شخص جمعہ پڑھنے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کر کے آئے۔ 
اس جیسی روایات سے جمعہ کی نماز کے لیے غسل کرنے کی تاکید ثابت ہوتی ہے۔
ان تین قسم کی روایات کے پیش نظر یہ بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ 
1: ہفتہ میں ایک بار غسل کرنا مسنون و مستحب ہے۔ اس کا مقصد جسمانی صفائی ستھرائی اور نظافت ہے۔ یہ غسل مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے مسنون ومستحب ہے۔   چونکہ یہ غسل ہفتہ میں ایک بار کرنا ہے اس لیے جمعہ کے دن کر لیا جائے تو دونوں قسم کی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ 
2: جمعہ کے دن غسل کرنا بھی مسنون ہے کیونکہ جمعہ کا دن ہفتہ کے دنوں میں افضل دن اور مسلمانوں کی عبادت وخوشی کا دن ہے۔ اس لیے اس کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر یہ غسل کرنا بھی مسنون ہے۔ چونکہ یہ غسل جمعہ کے دن کے لیے ہے اس لیے  یہ بھی مرد و عورت دونوں کے لیے مسنون ہے۔ اس غسل کی تاکید پہلے غسل سے زیادہ ہے۔ 
3: جمعہ کی نماز کے لیے غسل کرنا بھی مسنون ہے۔ البتہ یہ غسل اس کے لیے مسنون ہو گا جس پر جمعہ کی نماز فرض ہو۔ اس لئے غسل کی اس قسم سے خواتین مستثنی ہوں گی۔ نیز اس غسل کی تاکید جمعہ کے دن والے غسل سے زیادہ ہے۔ 
اس تفصیل سے یہ واضح ہوا کہ جمعہ کے دن درجہ بدرجہ دو قسم کے غسل مسنون ہیں: ایک جمعہ کے دن کے لیے اور دوسرا جمعہ کی نماز کے لیے۔ جمعہ کے دن کے لیے غسل کے مسنون ہونے میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں لیکن نمازِ جمعہ کے لئے اس کا مسنون ہونا صرف مردوں کے لیے ہے، عورتوں کے لئے نہیں۔ اس لیے خواتین بھی جمعہ کے دن غسل کر لیں تو انہیں جمعہ کے دن غسل والی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی (ت1402ھ) لکھتے ہیں:
قلت: وما یخطر فی البال بملاحظۃ الروایات وأقوال الأئمۃ وکلام الفقہاء أن ھناک عدۃ اغتسالات ندب إلیھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی روایات کثیرۃ بعضھا آکد من  بعض ویستقل کل واحد منھا بالسبب…. فالأول: الغسل فی کل أسبوع ندب إلیہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی عدۃ روایات منھا حدیث أبی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ قال قال صلی اللہ علیہ وسلم: حق اللہ علی کل مسلم أن یغتسل فی کل سبعۃ أیام [یوما]…. فأمثال ھذہ الروایات عندی من قبیل النظافۃ المطلقۃ لا تختص بیوم دون یوم…. فھذا الغسل عندہ یعم کل مسلم من الرجال والنساء حضر الجمعۃ أم لا…. والغسل الثانی: ھو غسل یوم الجمعۃ مندوب برأسہ غسل للیوم لا للصلاۃ فمن اغتسل بعد الجمعۃ یحصل لہ فضل غسل الیوم وإن لم یحصل لہ فضل غسل الصلاۃ…. وھو ثابت بالروایات….. منھا: حدیث أبی قتادۃ مرفوعا: من اغتسل یوم الجمعۃ کان فی طہارۃ إلی الجمعۃ الأخری رواہ ابن خزیمۃ فی صحیحہ…. إذ ھو یوم سرور وعید یعم من صلی أو لم یصل…. والثالث: ھو الغسل المعروف عند المشایخ الثابت بالروایات الکثیرۃ الشہیرۃ….. ھو الغسل لصلاۃ الجمعۃ یختص بمن حضر ومن لم یحضر فلیس علیہ ھذا الغسل کما ھو مصرح فی الروایات. ( )
ترجمہ: میں کہتا ہوں کے تمام روایات اور ائمہ فقہاء کے اقوال دیکھنے سے اس بات پر قلبی اطمینان ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کئی ارشادات میں غسل کرنے کی جو ترغیب دی ہے تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ غسل کئی طرح کے ہیں، بعض کی تاکید زیادہ اور بعض کی نسبتاً کم ہے لیکن ہر غسل مستقل طور پر ثابت ہے۔  پہلی قسم کہ ہر ہفتہ میں ایک بار غسل کیا جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کئی ارشادات میں اس کی ترغیب دی ہے۔ ایک حدیث میں ہے  کہ  حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن  غسل کیا کرے۔ اس جیسی روایات میں جس غسل کا ذکر ہے اس کا مقصد میرے نزدیک صفائی وستھرائی کا حصول ہے اور یہ کسی دن کے ساتھ خاص نہیں (بلکہ جس دن غسل کریں اس ارشاد پر عمل ہو جائے گا) یہ غسل ہر شخص کے لئے مسنون ہے، چاہے مرد ہو یا عورت، جمعہ پڑھنے والا ہو یا نہ۔ دوسری قسم: جمعہ کے دن کا غسل ہے۔ اس کا تعلق جمعہ کے دن کے ساتھ ہے، نمازِ جمعہ کے ساتھ نہیں۔ اس لئے جو شخص جمعہ کے بعد بھی یہ غسل کر لے تو اسے جمعہ کے دن کے غسل کی فضیلت حاصل ہو جائے گی اگرچہ نمازِ جمعہ کے غسل کی فضیلت نہ ملے گی۔ یہ غسل بھی کئی روایات سے ثابت ہے۔ ایک حدیث حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے  تو اگلے جمعہ تک وہ پاک صاف رہے گا۔  اس حدیث کو امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ جمعہ کا دن خوشی و شادمانی کا دن ہے، اس لیے اس دن کیا جانے والا یہ غسل ہر بندے کے لئے مسنون ہے چاہے نماز جمعہ اس پر فرض ہو یا  نہ ہو۔ تیسری قسم  نمازِ جمعہ کے لیے غسل کرنا ہے اور یہی وہ غسل ہے جو مشائخ کے ہاں معروف ہے اور کئی مشہور روایات سے ثابت ہے۔ یہ اسی شخص کے لیے مسنون ہے جس نے نمازِ جمعہ ادا کرنی ہو، جس نے نماز جمعہ ادا نہیں کرنی اس کے لیے یہ غسل مسنون نہیں جیسا کہ روایات میں اس کی صراحت آئی ہے۔
نوٹ:
اگر کوئی شخص جمعہ کے دن نمازِ جمعہ سے متصلا پہلے غسل کر لے  جس میں ہفتہ واری غسل، جمعہ کے دن کے لیے غسل اور نمازِ جمعہ کے لیے غسل کی نیت بھی کر لے اور اسی غسل کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرے تو اسے ان تین قسم کے غسل کی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔  شیخ الحدیث رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وإذا تحققت ذالک کلہ فلا یذھب علیک أن من اغتسل یوم الجمعۃ متصلا للصلاۃ یحصل لہ اغتسالات الثلاثۃ ونظیرہ ما صرح بہ المشایخ من أھل الفقہ أنہ یکفی غسل واحد لعید وجمعۃ اجتمعا مع جنابۃ وتحیۃ مسجد تؤدی بصلاۃ الفرض. 
ترجمہ: جب یہ بات آپ کو بخوبی معلوم ہو گئی تو یہ امر مخفی نہ رہنا چاہیے کہ جس بندے نے جمعہ کے دن نماز جمعہ سے سے متصل پہلے غسل کر لیا تو اسے تینوں غسل کی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ اکابر فقہاء نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ جس دن عید اور جمعہ ایک ساتھ جمع ہوں، انسان اس دن جنبی بھی ہو تو  عید، جمعہ اور جنابت کے لیے ایک ہی غسل کافی ہو گا۔ اسی طرح  فرض نماز ادا کرتے ہوئے تحیۃ المسجد کی نیت سے بھی تحیۃ المسجد ادا ہو جاتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved