- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ اہلِ کتاب میں سے کسی عورت کو اپنے گھر کام کے لئے رکھ سکتے ہیں جو صاف ستھری بھی ہو اور ہرکام کی ابتداء بسم اللہ سے کرتی ہو، اچھے کام پر ما شاء اللہ وغیرہ بھی کہتی ہو، الغرض اچھی عادات کی مالک ہو تو اسے ملازمت پر رکھنا کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
غیر مسلم خاتون کو امور خانہ داری کے لیے اجرت پر رکھنا جائز ہے لیکن خیال رہے کہ کام کاج کے دوران گھر کے مردوں سے خلوت نہ ہو اور یہ خاتون اپنے نظریات گھر کی خواتین اور بچوں پر مسلط نہ کرے۔ اس حوالے سے اس پر نظر رکھی جائے۔ ہاں! ملازمت کے دوران اس سے حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے اور اسلام کی دعوت بھی ساتھ ساتھ دیتے رہنا چاہیے۔تا ہم مسلمان خاتون کی خدمات لینا زیادہ بہتر ہےواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved