استفتاء
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”فضائل درود شریف“ میں یہ واقعہ درج کیا ہے:”حافظ ابو نعیم حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جا رہا تھا۔ میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے: ”اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ“۔ میں نے اس سے پوچھا: کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل ہے؟ (یا محض اپنی رائے سے) اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: سفیان ثوری۔ اس نے کہا: کیا عراق والے سفیان؟ میں نے کہا: ہاں۔ کہنے لگا: تجھے اللہ کی معرفت حاصل ہے؟ میں نے کہا: ہاں ہے۔ اس نے پوچھا: کس طرح معرفت حاصل ہے؟ میں نے کہا: رات سے دن نکالتا ہے، دن سے رات نکالتا ہے، ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت پیدا کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ نہیں پہچانا۔ میں نے کہا: پھر تو کس طرح پہچانتا ہے؟ اس نے کہا: کسی کام کا پختہ ارادہ کرتا ہوں اس کو فسخ کرنا پڑتا ہے اور کسی کام کرنے کی ٹھان لیتا ہوں مگر نہیں کر سکتا۔ اس سے میں نے پہچان لیا کہ کوئی دوسری ہستی ہے جو میرے کاموں کو انجام دیتا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ تیرا درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا، میری ماں وہیں رہ گئی (یعنی مر گئی) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے اس سے۔ میں نے اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز) سے ایک اَبَر آیا، اس سے ایک آدمی ظاہر ہوا۔ اس نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہو گیا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تیرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میں نے عرض کیا: مجھے کوئی وصیت کیجئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کرے یا اٹھایا کرے تو ”اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ“ پڑھا کر۔ (نزہۃ)۔“ (فضائل درود: ص 184، 185 حکایت نمبر 46)
اس پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں تقدس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نہیں رکھا گیا۔ بعض لوگوں نے تو اس واقعہ کو نقل کر کے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے بارے میں یہاں تک لکھا ہے کہ ”صاحبِ کتاب کا کیسا نبی ہے جو بادلوں میں تیرتا پھرتا ہے اور غیر محرم عورتوں کے پیٹوں پر ہاتھ پھیر رہا ہے۔ “ معاذ اللہ۔
حضرت! اس واقعے کی کیا حقیقت ہے اور اس کی کیا توجیہ کی جائے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حوالے سے چند باتیں ملاحظہ ہوں:
[۱]: یہ واقعہ علامہ ابو القاسم خلف بن عبد الملک بن مسعود بن موسیٰ بن بَشْکُوال الاندلسی (ت578ھ) نے اپنی کتاب ”القربۃ الی رب ا لعالمین“ (ص139، 140) میں، علامہ عبد الرحمٰن بن عبد السلام الصفوری الشافعی (ت900ھ) نے ”نزھۃ المجالس ومنتخب النفائس“ (ج2 ص96) میں اور علامہ شہاب الدين ابو العباس امام احمد بن محمد بن ابى بكر بن عبد الملك القسطلانی المصری (ت923ھ) نے اپنی کتاب ”مسالک الحنفاء الی مشارع الصلاۃ علی المصطفیٰ“ (ص 165) میں لکھا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے بھی ”نزھۃ المجالس“ کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ کیا یہ بات ان تین حضرات کے بارے میں بھی کہی جائے گی کہ یہ تینوں جلیل القدر ائمہ محدثین بھی -معاذ اللہ- تقدس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نہ رکھ سکے اور ان کا نبی بھی -معاذ اللہ- وہ ہے ”جو بادلوں میں تیرتا پھرتا ہے اور غیر محرم عورتوں کے پیٹوں پر ہاتھ پھیر رہا ہے۔“ ان تینوں حضرات کو چھوڑ کر صرف حضرت شیخ الحدیث کاندھلوی رحمہ اللہ پر طعن کرنا جو محض ناقل ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ ان لوگوں کا یہ اعتراض صرف حضرت شیخ الحدیث کاندھلوی رحمہ اللہ کے ساتھ عناد کی وجہ سے ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں!
[۲]: یہ واقعہ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ (مولود 96ھ، متوفیٰ 161ھ) کے دور کا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 85 سال بعد پیدا ہوئے۔ یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حسی اور دنیوی حقیقی زندگی کا نہیں۔ انسان اپنی حسی اور حقیقی زندگی میں احکاماتِ شرعیہ کا مکلف ہوتا ہے۔ جب یہ حسی وحقیقی زندگی کا واقعہ ہی نہیں تو اس پر حقیقی حیات کے احکامات صادر کرنا کہاں درست ہو سکتا ہے؟!
[۳]: جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم خواب میں دیکھا جاسکتا ہے اسی طرح عالم بیداری میں بھی دیکھنا ممکن ہے ۔ اکابرین و اسلاف میں سے کئی ایک حضرات اس عالم بیداری والی زیارت سے مشرف بھی ہوئے ہیں ۔ عالم بیداری میں جو زیارت ہوتی ہے یہ مثالی رؤیت ہے ، عالم شہادت کی رؤیت نہیں۔ جس طرح خواب میں رؤیت مثالی ہوتی ہے اور وہ رؤیت تعبیر کی محتاج ہوتی ہے بالکل اسی طرح اگر بیداری میں بھی رؤیت حاصل ہو جائے تو یہ رؤیت بھی مثالی ہو گی اور محتاجِ تعبیر ہو گی۔ اس لیے اس رؤیت پر عالمِ دنیا کے احکام لاگو کرنا بالکل درست نہ ہو گا۔
شیخ عبد الحق بن سیف الدین البخاری الدهلوی الحنفی (ت1052ھ) فرماتے ہیں:
”حاصلِ کلام یہ ہے کہ موت کے بعد حضرت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا مثالی صورت میں ہے جیسا کہ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال شریف کا دیدار ہوتا ہے، جاگتے میں بھی مثال شریف کا دیدار ہوتا ہے اور وہ مبارک وجود جو مدینہ منورہ (زادھا اللہ شرفا وکرامۃ) میں قبر اطہر کے اندر آرام فرما ہے اور زندہ ہے ،مثالی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔“
(مدارج النبوۃ : ج 1 ص 76 بحث در خصوصیات)
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃاللہ علیہ (ت1397ھ) لکھتے ہیں:
”عالم بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا ممتنع نہیں ہے، حدیث یا فقہ میں اس کی ممانعت نہیں بلکہ ایک حدیث میں ایسا ارشاد ملتا ہے ۔ارباب قلوب اور اہل تصوف کے یہاں تو یہ چیز تواتر کو پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض ا کابر کی زیارت بیداری میں ہوتی رہی،اگر چہ بیداری کی رؤیت مثالی رؤیت ہے، عام شہادت کی رؤیت نہیں ورنہ ہر شخص اس وقت دیکھتا بلکہ خاص مثالی رؤیت ہے۔ عالم مثال کی مثال بھی خواب جیسی ہے البتہ جو خواب میں دیکھ لے وہ رؤیا کہلائے گا اور جو بیداری میں ہو گی وہ رؤیت ہو گی۔ ہاں یہ ضرور خیال رہے کہ اس رؤیت میں ضروری نہیں کہ مرئی؛جن کو دیکھا جاتا ہے اس کو علم وخبرہو ،یا اس کے تصرف و قدرت کو دخل ہو ، جیسے خواب میں کسی کو دیکھتا ہے کہ جس کو دیکھتا ہے وہ حق تعالیٰ کی طرف سے ہے ، اس شخص کے ارادے اور قدرت ،بلکہ علم کو بھی دخل نہیں ہے۔“
(ماہنامہ بینات خصوصی نمبر بیاد حضرت بنوری: ص 178)
[۴]: مثالی رؤیت میں چونکہ حقیقی اور عنصری جسم نہیں ہوتا اس لیے اس رؤیت میں کئے گئےافعال بھی حقیقی نہیں بلکہ معنوی ہوتے ہیں گو کہ ان کا اثر ضرور مرتب ہوتا ہے۔
ان چار امور کی روشنی میں مذکورہ واقعہ پر کیے جانے والے اشکالات کے جواب میں خلاصۃً عرض ہے کہ
یہ واقعہ مطلقاً قابلِ اشکال نہیں ورنہ اتنے عظیم علمائے محدثین اسے بلا اعتراض نقل نہ کرتے۔ چھٹی صدی ہجری سے اب تک اس واقعہ کا کتب میں نقل ہوتے چلے آنا اور کسی کا اس پر نکیر نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ قابلِ اشکال نہیں بلکہ قابلِ تسلیم ہے۔
یہ رؤیت حقیقی و عنصری جسم کے ساتھ نہیں بلکہ رؤیت مثالی ہے۔
رؤیت مثالی پر رؤیت حقیقی کے احکامات لگانا جائز نہیں۔
رؤیت مثالی میں تصرفات معنوی ہوتے ہیں، حقیقی نہیں۔ چونکہ حکایت مذکورہ میں جسمِ عنصری موجود نہیں ہے اس لیے ہاتھ پھیرنے سے مراد محض اشارہ کرنا ہے ۔
اب مذکورہ واقعہ پر کوئی اشکال نہیں!
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا