• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ایک اشکال کا حل (جنت آسمانوں میں ہے تو وہاں سے قبر میں کھڑکی کیسے کھلے گی؟)

استفتاء

ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ جنت تو آسمانوں میں ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ نیک بندے کی قبر میں جنت کی طرف سے کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ ان دونوں باتوں میں تطبیق کیسے ہو گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[1]: ہر عالَم کے قواعد اور ضوابط الگ الگ ہوتے ہیں۔ ایک عالَم کو دوسرے عالَم پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ دو مکانات کے باہمی اتصال (مثلاً بصورتِ کھڑکی) کے لئے قرب کا ہونا عالَم ِدنیا میں تو ضروری ہے لیکن عالَمِ برزخ میں ضروری نہیں بلکہ وہاں اس قدر دوری کا ہونا اتصال میں مانع نہیں ہو گا کیونکہ عالمِ دنیا الگ ہے اور عالم برزخ الگ۔ حدیث میں جو کھڑکی کھولنے کی بات کی گئی ہے وہ عالمِ دنیا میں نہیں بلکہ عالم برزخ میں ہو گی۔[2]: ایک مکان سے دوسرے مکان میں کھڑکی کھولنے کے لئے دونوں مکانات کے قریب ہونے کا ضابطہ مخلوق کے لیے ہے خالق کے لئے نہیں کیونکہ مخلوق مجبور ہے جبکہ خالق ؛قادر مطلق ذات ہے۔ جنت بے شک اوپر ہے۔ وہاں سے مومن کی قبر میں کھڑکی کھولنا اگر مخلوق کا کام ہوتا تو مذکورہ اشکال پیدا ہو سکتا تھا لیکن یہ کام مخلوق کا نہیں بلکہ خالق کا ہے۔ خالق کائنات کی قدرت پر یقین ہو تو یہ اشکال ہی نہیں رہتا کہ جنت اور قبر کے درمیان فاصلہ ہونے کے باوجود کھڑکی کیسے کھلے گی؟! یہ قدرتِ باری تعالیٰ کا کرشمہ ہے کہ اتنا فاصلہ ہونے کے باوجود جنت سے قبر کی طرف کھڑکی حقیقتاً کھلے گی۔ سلطان المحدثین ملا علی قاری (ت1014ھ) لکھتے ہیں:(وافتحوا له بابا إلى الجنة) أي حقيقة.مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح: ج1 ص468
ترجمہ: حدیث میں جو آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس مومن کے لیے جنت کی طرف سے کھڑکی کھول دو تو اس سے مراد حقیقی کھڑکی کا کھولنا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved