• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ایک بیوہ، تین بیٹے اور تین بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

استفتاء

ایک شخص فوت ہوا ہے۔ اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، 3بیٹے اور 3بیٹیاں ہیں جبکہ ایک بیٹی مرحوم کی حیات ہی میں فوت ہو چکی تھی۔ اب ان ورثاء میں میراث کس طریقے سے تقسیم کی جائے گی ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
میت کے ترکہ کے 72 حصے کر لیے جائیں۔ بیوہ کو 9 حصے، ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے دیے جائیں۔ تقسیم کا نقشہ یوں ہو گا:
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
9 14 14 14 7 7 7
جو بیٹی مرحوم کی زندگی میں فوت ہو چکی تھی اس کا حصہ میراث میں نہیں ہو گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved