• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ایک بار دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے

استفتاء

ایک دوست ہیں۔ ان کے ایک رشتے دار کو ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے کہ ایک بچہ ہے جس نے اپنی ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کا بچپن میں صرف ایک مرتبہ دودھ پیا تھا۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ بات سو فیصد یقینی ہے کہ بچے نے صرف ایک مرتبہ ہی دودھ پیا تھا، زیادہ ہر گز نہیں پیا۔ تو کیا وه بچہ اب جوان ہو کر اس خاتون کی سگی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟ کیا وه لڑکی اس کی رضاعی بہن تو نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس بچے نے مدتِ رضاعت ( ) میں جس عورت کا دودھ پیا ہے وہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں بن چکی ہے اور اس کی بیٹی اس بچے کی رضاعی بہن۔ اس لیے اس لڑکے کا نکاح اس عورت کی بیٹی سے نہیں ہو سکتا۔واضح رہے کہ ایک مرتبہ دودھ پینے سے بھی حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved