• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

دوسروں کے ایصال ثواب کے لئے قربانی کرنے کا حکم

استفتاء

مجھ سے کراچی کی ایک بچی ناظرہ پڑھتی ہے۔ اس کی امی پوچھ رہی تھیں کہ کیا امہات المومنین رضی اللہ عنھن کے نام پر یا عام مسلمانوں کے نام پر قربانی ہو سکتی ہے؟ اس کے متعلق رہنمائی فرما دیں!

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس حوالے سے چند احکام سمجھنا ضروری ہیں:[۱]: اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ثواب پہنچانے کی غرض سے قربانی کرتا ہے تو یہ قربانی دراصل اِس شخص کی طرف سے نفلی شمار ہوتی ہے اور اس کا ثواب دوسروں کو پہنچتا ہے۔[2]: جس طرح ایصالِ ثواب ایک فرد کو کیا جا سکتا ہے اسی طرح کئی افراد کو بھی کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ایک نبی یا تمام انبیاء علیہم السلام کو، امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کو یا سب کو، اسی طرح ایک مسلمان کو یا تمام مسلمانوں کو اس کا ثواب پہنچانا چاہیں تو پہنچا سکتے ہیں۔[3]: اگر چند افراد آپس میں پیسے ملا کر کسی کے نام پر قربانی کرنا چاہیں تو یہ درست نہیں ہو گا بلکہ ضروری ہے کہ یہ افراد اپنے اپنے پیسے ایک فرد کی ملکیت کریں اور وہ ایک فرد قربانی کرے اور جن کو ایصالِ ثواب کرنا مقصود ہو ان کو ثواب پہنچا دے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ قربانی صرف ایک فرد کی طرف سے ہو سکتی ہے۔ ہاں ایصالِ ثواب ایک یا کئی افراد کو کیا جا سکتا ہے۔[4]: چونکہ یہ قربانی نفلی ہوتی ہے اس لیے اس کا گوشت عام قربانی کی طرح ہوتا ہے۔ خود بھی کھایا جاسکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلایا جا سکتا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved